اصحاب احمد (جلد 8) — Page 149
۱۵۰ سفر یورپ ۱۹۵۵ء ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ :- میری طبی خدمت کا سلسلہ گو اس وقت تک جاری ہے لیکن کی ذمہ داری ۱۹۵۴ء تک رہی۔جب تک میں نو ر ہسپتال کا انچارج رہا۔پھر مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب انچارج ہو گئے۔اس لئے حضور کی صحت کی نگرانی بھی لازماً آپ کے ذمہ آ گئی کیونکہ بفضلہ تعالی لائق فائق ہونے کے علاوہ حضور کے فرزندار جمند بھی ہیں اور عمر کے لحاظ سے بھی ذمہ داریوں کے کام سنبھالنے کے لائق ہیں لیکن اس کے باوجود حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے از راہ شفقت اس خاکسار کو بھی اپنے ساتھ ہی رکھا اور مئی ۱۹۵۹ء تک حضور کے علاج کے عملی حصہ میں مثلاً ٹیکے وغیرہ کرنے میں میرا ہی حصہ رہا۔جب حضور ۱۹۵۵ء میں بغرض حصول طبی مشورہ یورپ تشریف لے جارہے تھے تو سفر سے دس بارہ روز قبل حضور کو علم ہوا کہ میرا پاسپورٹ تیار نہیں کرایا گیا۔اس پر حضور سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اگر ان کا پاسپورٹ نہ بنا تو میں بھی نہ جاؤں گا۔خواہ میرا دو لاکھ روپیہ بھی کیوں نہ خرچ ہو گیا ہو۔سفر پر روانگی کے وقت قافلہ دوحصوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک حصہ سیدھالنڈن گیا جن میں حضور کے گھر کے افراد اور خاکسار تھا اور دوسرے قافلہ میں خود حضور شامل تھے ید پہلے قافلہ میں یہ افراد شامل تھے۔سیدہ ام ناصر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مع بیگم صاحبہ اور صاحبزادی خورد، صاحبزادگان مرزار فیق احمد صاحب، مرزا خلیل احمد صاحب، مرزا حنیف احمد صاحب، مرزا طاہر احمد صاحب ، سید داؤد احمد صاحب خلف حضرت میر اسحاق صاحب ، صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ اور سید قمر احمد صاحب، سیدہ ام وسیم احمد صاحبہ اور صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب۔دوسرے قافلہ میں حضور کے ہمراہ ذیل کے افراد تھے۔سیدہ ام متین صاحبہ، صاحبزادی امتہ المتین، سیده بشری بیگم صاحبہ، صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ، صاحبزادی امتہ الجمیل بیگم اور چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بالقابہ ( بیان ڈاکٹر صاحب)