اصحاب احمد (جلد 8) — Page 141
۱۴۲ بیعت حضرت مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے ۲۵ / دسمبر ۱۹۳۰ء کو بیعت کی اور بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں دفن ہونا نصیب ہوا۔اس بیعت میں محترم ڈاکٹر صاحب کا بھی حصہ ہے۔لاہور میں مرزا صاحب موصوف بیمار ہوئے۔لاتوں میں سختی پیدا ہو گئی تھی۔کھڑا نہیں رہ سکتے تھے۔لاہور کے بعد قادیان میں علاج شروع ہوا اور اس سلسلہ میں ڈاکٹر صاحب کو آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملتا تھا اور کبھی احمدیت کا بھی تذکرہ ہوتا۔ڈاکٹر صاحب نے اس سال کے رمضان المبارک میں ان دنوں کا یہ رویا سنایا کہ شور بپا ہے کہ حضرت مسیح موعود دوبارہ دنیا میں آرہے ہیں اور استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ صرف اکیلے ڈاکٹر صاحب ہیں اور استقبال حضرت صاحبزادہ صاحب کو دراصل شروع ہی سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بے حد عقیدت و شیفتگی تھی اور آپ حضرت اقدس علیہ السلام کو بے مثال عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے اور آپ کے دعاوی کو برحق تسلیم کرتے تھے اور آپ کی روح تحریک احمدیت کو قبول کر چکی تھی مگر آپ کو اس کے اظہار و اعلان میں بہت تامل تھا اور اس بات کا علم حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو بھی تھا اور حضور ہمیشہ ان کے حلقہ بگوش احمدیت ہونے اور ہر ایک درجہ کے لئے دعائیں کرتے رہتے تھے چنانچہ جون ۱۹۲۴ء میں حضور نے ان کے فرزند مرزا رشید احمد صاحب کا خطبہ نکاح پڑھا تو ایجاب وقبول کے بعد ارشاد فرمایا: ان کے خاندان میں اب ایک ہی وجود ایسا ہے جس نے ابھی تک اس ہدایت کو قبول نہیں کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام لائے۔ان کے لئے بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔۔جب سے میں نے ہوش سنبھالی ہے میں برابر ان کے لئے دعا کرتا رہتا ہوں