اصحاب احمد (جلد 8) — Page 120
۱۲۱ کبیر جی کہتے ہیں۔دیتا ہے دردِ دل کو شفا خود ہی بار بار پھر کیوں بتاؤں درد نہاں چارہ گر کو میں بھلا ہوا ہم بیچ بھے ہر کو کیا سلام جے ہوتے گھر اونچ کے کہاں ملتا بھگوان یعنی کیا ہی اچھا ہوا کہ ہم پیچ ( چمار ) کہلانے والوں میں پیدا ہوئے اس کی وجہ سے ہمیں خدامل گیا۔اگر ہم اونچی ذات سے ہوتے تو خدا کب ملنا تھا۔لیکن یہ کسی کے بس کی بات نہیں۔کوئی کسب سے غریب دل نہیں بن سکتا۔پھر ایمان کی عطا بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔یہ عطا اسی جگہ ہوتی ہے جس کو قبولیت بخشنے کا اراد درب السموات والارض نے کر لیا ہوتا ہے۔خود کنی ، خود کنانی کار را خود وہی رونق تو آں بازار را یہ احقر غریب ماں باپ کے ہاں غریب دل لے کر پیدا ہوا۔ایک کر مک کی طرح گلی کی موریوں کے پاس تنگ مکان میں پرورش پائی۔گردو پیش کی مسموم ہوا سے جسمانی اور روحانی استعداد تلف ہونے سے بچی، ایمان نصیب ہوا، دعا کا ذوق ملا، دعاؤں کی قبولیت کی چاشنی نصیب ہوئی، دعاؤں کے مانگنے میں تدریج عطا ہوئی۔۔۔ہاں اس کے فضل سے صرف اسی کے فضل سے یہ ذوق ملا کہ اس کا در ہو اور یہ سر ہو اور بس۔اس کی عنایات پائیں۔انعامات دیکھے، آخر دل کی کیفیت بجز اس کے کچھ باقی نہ رہی کہ پکار اٹھوں، بس خطائیں میری ہیں بے حد و حساب مرجاؤں در پہ مانگتا عفو و غفر کو میں اس جگہ میں اپنے آپ کو نہایت حقیر محسوس کر رہا ہوں اور اپنی اس حالت کا گواہ اپنے ربّ