اصحاب احمد (جلد 8) — Page 119
۱۲۰ حسن خداوندی کی جھلک پھر میرے دل میں اور شکر کا جذبہ پیدا ہوا اور یہاں تک محسوس ہوا کہ یہ ناچیز کہاں تک شکریہ ادا کر سکتا ہے۔اگر شکر کرتا کرتا مر بھی جائے تب بھی اس پیارے کی ایک ایک ادا کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا مجھے اس حسین کا حسن عجب رنگ میں نظر آیا۔پہلے اس نے عیاری سے مجھے بےسروسامان بنایا، پھر ایک شخص کے مجنونانہ فعل سے مجھے دُکھ پہنچوایا اور پھر اپنے حضور رونے کا موقع عطا فرمایا اور میرے دل کو شعور بخشا کہ بادشاہوں کا بادشاہ وہی ایک ہے۔پھر خود ہی دعا سکھلائی، پھر خود ہی اسے شرف قبولیت بخشتے ہوئے تین فرشتوں کو میری امداد کے لئے مقرر کیا، پھر مجھے ڈاکٹری پڑھوائی، پھر مجھے شہرت بخشی ، پھر اس فرعونیت دکھلانے والے کو حاجتمند کی حیثیت میں میرے سامنے لا ڈالا ہر تو ختم است همه شوخی و عیاری و ناز هیچ عیار نبا کہ نہ نالاں کردی ۲۴ کبر ونخوت سے بچنا چاہئے میں اس جگہ ایک بات بیان کرنے سے رک نہیں سکتا کیونکہ اگر ایسا نہ کروں تو مِمَّا رَزَقْنَاهُمُ يُنْفِقُونَ کے منشاء کو پورا نہ کرنے والا ٹھہرتا ہوں۔دل کا غریب ہونا بڑی خوب روئی ہے اور اس پر غربت کا مل جانا اعلیٰ درجہ کا زیور ہے۔جو خوبروئی کو اعلیٰ درجہ کا زیب بخشتا ہے۔پھر ایمان کی روشنی اس کو جلا دیتی ہے پھر اس ماہ خوباں میں حسینوں کا حسین عاشق بنتا ہے اور اپنے لامتناہی نور کے بقعہ میں اسے داخل کر لیتا ہے۔پھر عاشق و معشوق کی کوئی تمیز نہیں رہتی، دنیا کے نزدیک وہ زندہ درگور ہوتا ہے۔مگر وہ اپنے پیارے کے پیار سے ایک جہان دیکھ رہا ہوتا ہے کہ جس کی فراخی کی کوئی حد نہیں۔ایک دیوانہ اس کیفیت میں کہہ اٹھاے دیتا جھلک ہے حسن کی اپنے جو بار بار لاؤں نظر میں کیوں بھلا حسنِ قمر کو میں