اصحاب احمد (جلد 8) — Page 110
غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی تب خدا تعالی گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا۔۔۔سواے عزیز و ! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے۔تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔دوسری قدرت کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن جب میں جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا۔جو ہمیشہ تمہارے ساتھ ۱۸ رہے گی۔جیسا کہ خُدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے۔جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سو ضرور ہے کہ تم پر میری جُدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔‘19 وفات کے وقت مومنوں کی حالت ہم نے حضور کی وفات کے وقت اپنے آپ کو سخت حزیں پایا اور اسی کی مانند جیسا کہ حضور نے قبل از وقت فرمایا تھا۔اس دن سب پر اداسی چھا جا ئیگی۔‘۲۰ اس دن کا غم بے انتہا تھا۔وہ پیارا باپ ہمیں یتیموں کی طرح چھوڑ کر چلا گیا۔اس صدمہ کا اثر آج کے دن تک چلا آ رہا ہے۔اُداسی کا وہ عالم تھا کہ وہ دن تاریک و تار ہو گیا تھا۔فی الحقیقت آسمان کا سورج اس روز گرد و غبار کی وجہ سے بالکل مدھم ہو گیا تھا۔الغرض میں اپنے قلب کی حالت کو دیکھ کر کچی گواہی دیتا ہوں کہ وہ دن ہمارے لئے نہایت صدمہ کا دن تھا اور اس دن سخت اداسی چھا گئی تھی کہ حاضر مومن بیٹھے کھڑے اور چلتے تو نظر آتے تھے لیکن بے زبان تھے۔کوئی اونچی آواز سے بولتا سنائی نہ دیتا