اصحاب احمد (جلد 8) — Page 108
1+9 خاص ممانعت تھی لیکن میں اشتیاق میں دروازہ کے قریب کھڑا رہا۔آخر منتظمین میں سے کسی ایک نے ترس کھا کر مجھے بھی صحن کے اندر داخل کر دیا۔تقریر کے دوران حضور نے دودھ کے گلاس میں سے چند گھونٹ پیئے تھے۔اس طرح یہ دودھ تبرک بن گیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے بھی اس تبرک کا حصہ مل گیا۔اس وقت ایسی خوشی حاصل ہوئی گو یا بادشاہت مل گئی ہے۔ایک روز غالبا وفات سے دو دن پہلے خواجہ صاحب کے مکان کے ہال کمرہ میں نماز ظہر وعصر ادا فرما کر حضور تشریف فرما ہوئے۔حضور کے سامنے پندرہ میں احباب میں میں بھی حاضر تھا۔اس وقت حضور نے کچھ باتیں بطور نصیحت فرمائیں۔ان میں سے حضور کے یہ الفاظ مجھے آج تک خوب یاد ہیں کہ جماعت احمدیہ کے لئے بہت فکر کا مقام ہے۔کیونکہ ایک طرف تو لاکھوں آدمی انہیں کافر کافر کہتے ہیں۔دوسری طرف اگر یہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مومن نہ بنے تو ان کے لئے دو ہرا گھانا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضور کی آخری نصیحت یا وصیت تھی جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔۲۵ رمئی کی شام کو مغرب سے صرف ایک گھنٹہ پہلے حضور مع حضرت ام المومنین و بعض صاحبزادگان بذریعہ گھوڑا گاڑی سیر کو تشریف لے گئے۔اس وقت حضور اندرون خانہ سے جب گاڑی پر سوار ہونے کے لئے باہر نکلے تو حضور کی رفتار میں کوئی کمزوری نہ نظر آتی تھی بلکہ رفتار اچھی تیز تھی۔حضور اور حضرت ام المومنین گاڑی پر سوار ہو گئے۔جب کہ کو چوان کے ساتھ والی سیٹ پر میاں شادی خاں صاحب بیٹھے تھے اور گاڑی کے پچھلے پائیدان پر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بطور محافظ کھڑے تھے۔گاڑی روانہ ہوگئی تو یہ عاجز بھی وہاں سے اپنی رہائش کی جگہ پر رین بسیرے کے لئے چلا گیا اور اگلے روز شام کے وقت پھر حاضر ہونے کے خیال کے ساتھ رات کو سویا۔۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء صبح کالج گیا اور جب گیارہ بجے کے قریب واپس مکان پر آیا تو کسی کی زبانی سنا کہ حضرت صاحب وفات پاگئے ہیں۔میں اپنی کتابوں کو کمرہ میں پھینک کر فوراً احمد یہ بلڈنگز کی طرف روانہ ہو گیا۔