اصحاب احمد (جلد 8) — Page 107
گذشتہ چند ماہ کے اندروفات پاگئے تھے۔جن کی جدائی کا صدمہ دل پر تھا تو روحانی ماں باپ کا تشریف لا کر زیارت کروانا غم کو دور کرنے اور خوشی پہنچانے کا موجب تھا۔چنانچه حضور ۲۹ را پریل کو لاہور تشریف لے آئے اور خواجہ صاحب کے مکان پر قیام پذیر ہوئے اور خواجہ صاحب کے مکان کو مرجع خلائق بنا دیا۔احمدی احباب اور غیر احمدی معززین اور ہند و عورتیں حضور کی زیارت کے لئے آنے لگے۔ایک غیر احمدی معزز شخص شہزادہ ابراہیم نام نے جو کابلی شہزادوں میں سے تھے ، حضور کو اپنے ہاں کھانے پر بلایا۔حضور نے بدیں الفاظ معذرت کر دی کہ میرا طریق لوگوں کے گھروں پر جا کر دعوتیں کھانا نہیں۔اس پر شہزادہ صاحب موصوف نے پچاس روپے کی رقم بھجوادی تا حضور اپنے گھر پر ہی کھانا تیار کروا کر ان کی طرف سے دعوت کے طور پر تناول فرمالیں۔حضور نے پچاس روپے اپنی طرف سے ملا کر خواجہ صاحب کو ایک سور و پیر کی رقم دی اور فرمایا کہ ایک دعوت کا انتظام کیا جائے۔جس میں لاہور کے چیدہ چیدہ لوگوں کو بلایا جائے اور ان کو یہ بھی بتلایا جائے کہ کھانے سے پہلے میری ( یعنی حضرت مسیح موعود کی تقریر بھی ہو گی۔جس میں میں اپنا دعوئی اور اس کی صداقت کے دلائل بھی پیش کروں گا۔چنانچہ ۷ ارمئی کو ایسی دعوت کا انتظام کیا گیا اور کھانے سے پہلے حضور نے قریباً ڈیڑھ گھنٹہ کھڑے ہونے کی حالت میں تقریر کی۔سامعین جو کرسیوں پر سامنے بیٹھے تھے جن کی تعداد ڈیڑھ دوسو کے قریب تھی۔ایسی خاموشی سے تقریر سنتے رہے گویا اس جگہ کوئی موجود ہی نہیں۔جب تقریر کو قریباً ایک گھنٹہ ہو گیا تو سامعین میں سے ایک شخص بولا کہ اب کھانے کا وقت ہو گیا ہے تو اس پر ایک دوسرا بولا کہ کھانا تو روز ہی کھاتے ہیں یہ کھانا بار بار نہیں ملا کرتا۔گویا ان الفاظ میں یہ امر مستور تھا کہ حضور کی یہ آخری تقریر ہے۔یہ تقریر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے صحن میں ہوئی تھی۔اس کے بعد حضرت صاحب مع مہمانوں کے خواجہ صاحب۔۔۔۔۔کے مکان کے صحن میں جو چند قدم کے فاصلہ پر تھا ، کھانا کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔خاکسار اپنی جائے رہائش پر جو پانی کے حوض کے قریب تھی چلا گیا۔حضور نے رؤساء میں جو تقریر فرمائی تھی۔اس کے لئے عام داخلہ نہ تھا بلکہ طلباء کے لئے