اصحاب احمد (جلد 8) — Page 106
1۔6 حضرت اقدس کا وصال اور حضرت خلیفہ اول کا انتخاب میں ۲۰ را پریل ۱۹۰۸ء میں میڈیکل سکول لا ہور میں داخل ہوا تھا۔چونکہ میں لا ہور میں کسی شخص سے واقف نہ تھا اور نہ مجھے یہ معلوم تھا کہ سکول کا کوئی بورڈ نگ بھی ہے۔اس لئے میں خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر رات بسر کرنے کے لئے چلا گیا کیونکہ مجھے خواجہ صاحب کے مکان کی جائے وقوع معلوم تھی۔ان کے مکان پر میری سب سے پہلی ملاقات ان کے نیک دل منشی نوراحمد بلال سے ہوئی۔انہوں نے میری مسافرانہ حالت اور طالب علمی کے پیش نظر مجھے اپنا بستر اپنے کمرہ میں رکھنے کی اور رات کو برآمدہ کے فرش پر جو بے چھت کے تھا ،ہونے کی اجازت دے دی تا آنکہ میں چند دن تک اپنے لئے کوئی مستقل رہائش کا انتظام کرلوں۔اس طرح پر چند دن ہی گزرے تھے کہ جناب منشی صاحب نے فرمایا کہ اب تو آپ کو کسی اور جگہ انتظام کرنا پڑے گا کیونکہ ایک دو دن تک حضرت مسیح موعود مع اہل وعیال اور خد ام لاہور تشریف لا رہے ہیں اور حضور کا قیام یہاں خواجہ صاحب کے مکان پر ہوگا۔خاکسار کو حضور کی آمد کی خبر سے بے حد خوشی ہوئی کہ حضور ایک ناچیز اور غریب خادم کو قادیان سے لاہور پہنچ کر زیارت کا موقع عطا فرما رہے ہیں۔خوشی کی زیادتی اس وجہ سے بھی ہوئی کہ میرے والدین یہ محترم ڈاکٹر صاحب کا مضمون ہے۔جو آپ نے ربوہ کے ایک جلسہ میں ۲۷ رمئی ۱۹۰۹ء میں پڑھا تھا۔ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔اس لئے کہیں قدرے اختصار کر کے یا دیگر تحریرات سے اضافہ کر کے درج کیا ہے۔(مؤلف)