اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 98 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 98

۹۹ ہوا اور بہت تکلیف پہنچی۔اس کی وجہ سے مسجد میں تشریف نہ لا سکتے تھے اور ہم نے بھی اجازت اندر حاضر ہو کر لی تھی۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ انہی دنوں حضور کو فزع عیسیٰ وَمَنْ مَّعُهُ والا الہام ہوا تھا۔66 اس روایت کے آخر پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں:۔الماری کے تختہ کی چوٹ کا واقعہ میرے سامنے ہوا تھا۔حضرت صاحب کسی غرض کے لئے نیچے جھکے تھے اور الماری کا تختہ کھلا تھا۔جب اُٹھنے لگے تو تختہ کا کونہ سر میں لگا اور بہت چوٹ آئی۔یہ واقعہ اس کمرہ میں ہوا تھا۔جو حجرہ کہلاتا ہے۔“ جید تجارت اور حضرت اقدس کی خدمت میں تحفہ ڈاکٹر صاحب محترم ابھی دسویں جماعت میں تعلیم پارہے تھے تو اخراجات تعلیم کی فراہمی کے لئے آپ نے چند روپوں کے ٹرنک منگوا کر اپنے والد ماجد کی دکان پر رکھ لئے جو فروخت ہو جاتے تھے اور کچھ آمدنی ہو جاتی تھی۔جب ۱۹۰۷ء میں آپ نے میٹرک پاس کر لیا تو اپنے مندرجہ ذیل قرائن سے ڈاکٹر صاحب اور آپ کے رفقاء کے قادیان پہنچنے کی تاریخ بیعت کی تاریخ جمعہ کی تاریخ اور قیام کے عرصہ کا تعین ہوتا ہے۔جنتری کی رو سے اراور ۱۸ راگست ۱۹۰۵ء کو جمعہ تھا: - (1) فزع عیسی والا الہام اس عرصہ قیام میں ہوا یا سنایا گیا۔(اس کے سنائے جانے کی تاریخ ۱۲ اگست ہے ) (۲) الماری سے سر میں چوٹ آنے کی وجہ سے اندرون خانہ حاضر ہو کر احباب نے واپسی کی اجازت حاصل کی۔( یہ واقعہ چوٹ کا ۲۰ راگست کو ہوا تھا ) قرائن بالا سے ظاہر ہے کہ ۱۲ را گست کو بروز ہفتہ یہ احباب اس الہام کے سنائے جانے کے روز قادیان پہنچے اور اس روز یا اگلے روز بیعت کی اور ۱۸ اگست کا جمعہ قادیان میں پڑھا اور ۲۰ اگست کو چوٹ والے واقعہ کے روز تک قادیان میں ضرور قیام رہا ممکن ہے اس کے چند دن بعد واپسی ہوئی ہو۔کیونکہ روایت میں دس بارہ دن کا ذکر آتا ہے۔(مؤلف)