اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 78 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 78

ZA کوئی خوشخبری دے تو اُسے کچھ دینا چاہئے نیز یہ بھی فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بڑھاپے میں لڑکے دے کر اس شرک سے بھی بچالیا ہے کہ میں بچوں پر کوئی خدمت کی بھی امید رکھ سکوں نیز میرے پاس کوئی سند نہیں ہے اور جہاں تک مجھے یاد ہے میرے باپ دادا کے پاس بھی کوئی سند نہیں تھی لیکن ہم سب عزت کی روٹی کھاتے رہے ہیں۔اس لئے میرے بچوں کو سندوں کی ضرورت نہیں ہے البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی نیک ہو جائے تو میرے لئے بعد میں دعا کر سکے۔“ (۸) ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ مسیح اول کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ نے کاغذ کے ایک چھوٹے سے پرزے پر لکھ کر دیا کہ عبد ائی انگریزی میں کمزور ہے آپ اس کے لئے کوئی ٹیوشن مقرر کر دیں۔میں ماہوار ادا کر دیا کروں گا۔میں نے یہ خیال کر کے کہ حضور کو اکثر مالی تنگی رہتی ہے اور ٹیوشن سے آپ پر اور بوجھ پڑ جائے گا۔میں نے خود عبدالحئی کو پڑھانا شروع کر دیا۔ایک دن میں حضور کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو عبد ائی نے آپ سے کہا کہ ابا جی چوہدری صاحب مجھے انگریزی پڑھا دیا کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ سالانہ امتحان میں اگر تم انگریزی میں اوّل آ جاؤ تو جو انعام تم پسند کرو گے یا چوہدری صاحب پسند فرما ئیں گے ان کو دیا جائے گا۔سالانہ امتحان میں عزیز اپنی جماعت میں انگریزی میں اول رہا۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں حضور سے دعا کے لئے عرض کروں مگر میں جانتا تھا کہ حضور دعا کے علاوہ مالی خدمت ضرور کریں گے اور مالی بوجھ میں حضور پر ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔اس لئے یہ سمجھ کر کہ میرا خدا میری نیت کو جانتا ہے وہ ضرور بدلہ دے گا میں نے حضور کو وعدہ یاد نہ دلایا۔ایک دفعہ کچھ شریر لڑ کے بورڈنگ میں داخل ہو گئے۔وہ اپنی شرارتوں سے لوگوں کو تنگ کرتے تھے۔میں نے حضور سے ذکر کیا حضور نے درس میں فرمایا کہ مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ بعض لڑکے شریر ہو گئے ہیں وہ اپنی شرارتیں چھوڑ دیں ورنہ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان سے ہمارا چھٹکارا کرا دے۔حضور کی دعا کے بعد دو ہفتہ کے اندر وہ تمام لڑکے جو بارہ کے قریب تھے، خود بخو د بورڈنگ سے نکل گئے۔