اصحاب احمد (جلد 8) — Page 53
۵۳ کے ہیڈ ماسٹر مولوی صدرالدین صاحب نے آپ کو قادیان بلوالیا اور ۶ ارمئی ۱۹۰۹ء سے سکول کے کام پر لگا لیا۔اس وقت چوہدری صاحب کا خیال تھا کہ آپ کو صرف مولوی محمد دین صاحب حال ناظر تعلیم ربوہ) کے ٹرینینگ کالج سے واپس آنے تک کے لئے کام پر لگایا گیا ہے لیکن ایک ماہ کے بعد آپ کو معلوم ہو گیا کہ انجمن نے آپ کو مستقل کر دیا ہے۔گو قادیان سے باہر کے مدارس میں زیادہ تنخواہ ملتی تھی لیکن چونکہ آپ کی خواہش یہی تھی کہ آپ قادیان ہی میں مقیم رہیں۔اس لئے آپ نے انکار نہیں کیا۔۱۹۰۸ء میں پرانی قادیان سے باہر حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی کے سوا اور کوئی مکان نہ تھا۔البتہ مدرسہ کی عمارت کے لئے اینٹیں پکانے والا بھٹہ جاری تھا۔فروری ۱۹۱۰ ء میں قادیان میں طاعون پڑ جانے کی وجہ سے چوہدری صاحب بورڈنگ کے لڑکوں کو شہر سے باہر لے آئے اور مسجد نور کے قریب کے بڑ کے درخت کے پاس عارضی رہائش اختیار کی بعد میں جلد ہی بورڈنگ ہاؤس تعلیم الاسلام ہائی سکول اور اس کے چار کوارٹرزتعمیر ہو گئے۔اس وقت باہر کی آبادی صرف بورڈنگ ہاؤس تعلیم الاسلام ہائی سکول ، اس کے چار کوارٹرز اور کوٹھی حضرت نواب صاحب پر مشتمل تھی۔میں ہائی سکول میں اعلیٰ جماعتوں کو سائنس اور حساب پڑھا تا تھا اور بورڈ نگ میں سپر نٹنڈنٹ تھا۔اقارب کی بیعت - آپ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ ہمارے گاؤں میں تشریف لائے ہیں اور خواب میں مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ یہ بزرگ حضرت مسیح موعود ہیں۔حالانکہ میں میں نے ابھی تک آپ کو دیکھا ہوا نہیں تھا۔اس وقت میں احمدی نہیں تھا بعد میں جب میں نے حضور کی زیارت کی تو آپ کی شکل مبارک بالکل ایسی ہی پائی۔خواب میں میں نے ایک پلنگ پر عمدہ سا بستر کر کے آپ کو بٹھا دیا۔اس خواب کی تعبیر یہ تھی کہ میرے گاؤں میں میری وجہ سے جماعت قائم ہو گی۔چنانچہ میرے ذریعہ میرے خاندان کے اکثر افراد نے احمدیت قبول کی۔فالحمد للہ علی ذالک۔افسوس کہ یہ بڑ کا تاریخی درخت چند سال قبل معدوم ہو چکا ہے۔(مؤلف)