اصحاب احمد (جلد 8) — Page 36
۳۶ مولاناکے لئے مرطوب ہوا۔چاول اور مچھلی نا موافق تھی۔اب یہاں یہی غذا تھی۔دورے بڑھ رہے تھے مگر ان دوروں میں تبلیغ جاری رہتی۔کبھی ہاتھ منہ پر جاپڑتا اور کبھی کندھے پر کئی کئی آدمی دباتے مگر آرام نہ آتا۔اس حالت میں مباحثات تقریری ، درس قرآن جاری رہتا۔سچ تو یہ ہے کہ میں ان کی تکلیف کا نقشہ کھینچ نہیں سکتا۔خدا کی آزمائش بڑھی۔مولانا کے مقعد اور پیشاب کی نالی کے درمیان ایک پھوڑا نکلا۔ورم سے تکلیف بڑھ گئی۔بخار دن رات رہنے لگا۔جب ڈاکٹر نے پھوڑا چیرا تو پیشاب اصلی جگہ کی بجائے اپریشن کی جگہ سے آنے لگا۔جب پیشاب زخم کی جگہ سے آتا تو شیخ کے ساتھ بیہوش ہو جاتے۔اس حالت میں بھی جب سننے والا آتا تو لیٹے ہی لیٹے تبلیغ کرنے لگتے اور کہتے کہ میں چاہتا ہوں کہ پیغام حق دیتے ہوئے جان نکلے۔پہلے اعصابی دورے تھے پھر بخار ہوا، پھر یہ بیماری۔اب انفلوئنزا ہو گیا۔کئی کئی گھنٹہ بیہوشی رہتی۔مگر جب افاقہ ہوتا تو لوگوں کو جمع کر کے سلسلہ کا پیغام دیتے۔قرآن کریم کا درس دیتے۔اس تکلیف میں چھ ماہ کا لمبا عرصہ گزر گیا۔مگر ایک منٹ کے لئے بھی ناشکری نہ کی اور نہ سلسلہ کی تبلیغ کو چھوڑا۔ان کا صبر ایوب کا صبر تھا۔انہوں نے یہ بے نظیر نمونہ تبلیغ میں قائم کیا۔باوجود شدت امراض کے بھی تبلیغ نہ چھوڑی۔“ یہ جانباز بہادر مبلغ ہمارے مولا نا غلام رسول صاحب را جیکی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے۔آمین ! معالج ڈاکٹر نے یہ کہہ دیا کہ مولانا صاحب اب بچتے نظر نہیں آتے۔اس پر آپ نے یہ وصیت کی کہ اگر یہاں پر وفات ہو جائے تو میری لوح مزار پر صرف یہ شعر لکھ دیا جائے۔گر نباشد دوست ره بردن شرط عشق است در طلب مُردن آپ نے خواب دیکھا کہ ملک الموت جولوگوں کو کاٹ کاٹ کر پھینکتا ہے میری منت پر اس نے مجھے گذرنے دیا۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو حالات مرض کا علم ہوا تو آپ نے یہ اجازت نہ دی کہ مدراس کے ایک امریکن ڈاکٹر سے جو پہلے پادری رہ چکا تھا علاج کرایا جائے۔مبادا وہ کوتاہی کرے کیونکہ ان لوگوں کو ملک کے حالات اور اہلِ مذاہب کے