اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 30 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 30

کریں۔آپ مسجد میں پہنچے تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر میں کا فر کو تقریر نہیں کرنے دوں گا اور اعتراض کرنے لگا۔آپ نے اس کی علمی پردہ دری کی تو اس نے آپ کو تھپڑ مارا۔اس بدتمیزی پر نمبر دار وغیرہ نے مولوی کو سخت ملامت کی اور یہ مجمع منتشر ہوگیا لیکن ہزار ہا افراد جو جمع تھے ان تک حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کا اعلان پہنچ گیا۔یہ معلوم کر کے کہ مولوی ابھی گاؤں میں ہی ہے۔حضرت مولوی صاحب نے نمبر دار سے کہا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو قرآن مجید اور اسلام کی رو سے سچ سمجھ کر آپ لوگوں سے الگ ہوا ہوں۔اس لئے آپ مولوی مذکور سے میری گفتگو کرائیں تا لوگوں پر حق کھل جائے لیکن مولوی مذکور نے با وجود امن کی تسلی دلانے کے خطرہ کا عذر کر کے وہاں سے بھاگ جانا مناسب سمجھا اور پھر ادھر کا کبھی رُخ نہیں کیا بلکہ چند روز کے بعد ہی اس کے مرض آتشک میں گرفتار ہونے کا علم ہوا اور پھر جلد ہی مر گیا۔حضرت مولوی صاحب نے اس گاؤں میں چند دن خوب تبلیغ کی لیکن لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔آپ نے خواب دیکھا کہ طاعون نے اس گاؤں پر حملہ کیا ہے اور سخت تباہی ہوئی ہے۔چنانچہ چند دن بعد ایسا ہی وقوع میں آیا اور طاعون سے قریباً گیارہ سو افراد لقمہ اجل ہوئے۔سراسیمگی پیدا ہوئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔جب کہ اردگرد کے دیہات طاعون سے بالکل محفوظ ہیں تو ایک شخص نے کہا کہ مجھے خواب میں اس تباہی کا باعث ایک بزرگ یا فرشتہ نے وہ چھپڑ بتایا ہے جو اس گاؤں میں خدا کا حکم سناتے ہوئے خدا کے ایک بندے کو مارا گیا تھا۔بمقام مڈھ رانجھا حضرت خلیفہ اول کے عہد مبارک میں مولوی شیر عالم صاحب کے ساتھ تحریری مباحثہ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا را جیکی کے دل میں القاء کیا اور آپ نے پرچہ پڑھنے سے پہلے یہ دعا کی کہ اے خدا تعالیٰ اگر میرا پر چہ تیری رضا کے مطابق ہے تو سنانے سمجھانے کی توفیق دے اور حاضرین کو سننے اور سمجھنے کی اور قبول کرنے کی۔ورنہ نہ مجھے سُنانے کی اور نہ حاضرین کو سننے کی توفیق ملے۔چنانچہ آپ نے چار گھنٹے صرف کر کے صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور وفات حضرت مسیح ناصری پر اپنا پر چہ مع زبانی تشریح کے سُنایا اور غیر احمد یوں نے خوب شوق سے سنا۔غیر احمدی مولوی صاحب نے بھی حضرت راجیکی صاحب کے کہنے پر