اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 29 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 29

۲۹ بہت ہی دلچسپ ، دلوں پر اثر کرنے والی اور شبہات و وساوس دور کرنے والی ہوتی ہے۔“ 2 اعلائے کلمۃ اللہ میں انہماک اور تقاریر و مناظرات ۱۸۹۷ء میں آپ بیعت کرتے ہی اعلائے کلمتہ اللہ کے کام میں مصروف ہو گئے اور ۱۸۹۹ء میں مسجد رحیمیہ لاہور میں نصف سال تک تعلیم کے لئے داخل ہوئے۔اس کے بعد پھر آپ وطن میں جا کر تبلیغ میں ہمہ تن مشغول ہو گئے اور مخالفین نے علماء کو بلوا کر آپ پر کفر کا فتویٰ لگوا دیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اقارب میں سے آپ کے تایا حضرت میاں علم الدین صاحب مرحوم ( جو غوث اور قطب مشہور تھے ) اور چا حضرت حافظ نظام الدین صاحب مرحوم اور ان کے بیٹے میاں غلام علی صاحب مرحوم صدر جماعت سعد اللہ پورکونہ صرف احمدیت بلکہ صحابیت نصیب ہوئی۔غیر احمدی اور غیر مبائع علماء ، آریہ پنڈتوں اور پادریوں سے آپ کے بار ہا مناظرات ہوئے جن میں یہ برکت حضرت مسیح موعود الہی تائید سے آپ کو کامیابی ہوتی رہی اور سینکڑوں افراد کو قبول حق کی توفیق ملی۔یہ کامیابیاں ظاہری علم کی وجہ سے نہیں تھیں اور نہ ہی حضرت مولانا صاحب اپنے ساتھ کتب کے صندوق رکھنے کے عادی تھے۔دعاؤں کی تاثیرات اور علم لدنی کی برکت سے اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا تھا اور عجیب رنگ میں کرشمہ نمائی کرتا تھا اور مخالفین عاجز آجاتے تھے۔ابتدا میں جب آپ اپنے علاقہ میں مصروف تبلیغ تھے۔ایک قریب کے گاؤں میں احمد دین نامی ایک مولوی نے احمدیوں کے خلاف سخت اشتعال پیدا کر دیا اور اس نے کہا کہ جس گاؤں میں بھی احمدی ہیں وہ گاؤں ایسے کنویں کی مانند ہے جس میں خنزیر پڑا ہو۔اگر گاؤں والے گاؤں کو پاک رکھنا چاہتے ہیں تو مرزائیوں کو نکال دیں۔کئی روز کی تقریروں سے اشتعال بڑھتا گیا اور مولوی نے سمجھا کہ کوئی بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔حضرت مولوی صاحب کو بلایا گیا آپ نے آتے ہی مولوی کے نام عربی میں ایک خط لکھا۔اس نے آپ کو بلوا بھیجا کہ آپ منبر پر تقریر