اصحاب احمد (جلد 8) — Page 24
۲۴ ایک رؤیا اور آپ کی قادر الکلامی ههتو، آپ نے ابتدائی ایام میں یہ رویا دیکھا تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں بھرتی ہوئے ہیں۔جو ہندوستان پر چڑھائی کرنے والا ہے۔چنانچہ یہ عجیب بات ہے کہ آپ کو اعلائے کلمتہ اللہ اور جہاد کبیر کی مہم میں گذشتہ نصف صدی میں کوئٹہ سے لے کر مشرقی بنگال تک، پشاور سے لے کر کراچی تک اور کشمیر سے لے کر مدراس ، مالا بار اور بمبئی تک کے علاقوں میں پیغام حق پہنچانے اور جماعتہائے احمدیہ میں تقاریر اور اس کے ذریعہ تربیت واضافہ علوم کی توفیق ملی۔اور پنجاب کا تو شاذ ہی کوئی شہر ہو گا جہاں آپ کو اس تعلق میں بار بار جانے کا موقع نہ ملا ہو اور اس علم سے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے حاصل ہوا۔آپ نے ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں مثلاً مدراس، حیدر آباد ، دہلی ، کلکتہ، لاہور، کراچی سہارن پور، کانپور، پشاور، سیالکوٹ، امرتسر، لاہور میں بڑے بڑے علماء کو قرآنی حقائق و معارف عربی زبان میں بیان کرنے میں مقابلہ کے لئے للکارا لیکن اللہ تعالیٰ نے سلسلہ حقہ کا ایسا رعب قائم کیا کہ کوئی بڑے سے بڑا عالم مقابلہ نہ کر سکا اور کسی کو دعوت مبارزت قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی۔آپ کا منظوم کلام عربی، اردو، فارسی اور پنجابی چاروں زبانوں میں ہے۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد کا کہنا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد سلسلہ احمدیہ میں مولا نا راجیکی صاحب کا عربی کلام ایک نمایاں خصوصیت کا حامل ہے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے عربی قصائد پانچ پانچ صد اشعار تک کے لکھے اور آپ کا یہ منظوم کلام عجیب عجیب صنعتوں میں منصہ شہود پر آیا۔آپ نے بعض ایسے قصائد بھی رقم فرمائے جن میں ہر شعر کا پہلا مصرعہ منقوطہ اور دوسرا غیر منقوطہ ہے۔اس طرح آپ نے غیر منقوطہ قصائد بھی کہے۔آپ کی بعض نظمیں عربی اور فارسی کے مخلوط اشعار مشتمل ہیں۔آپ کا بہت سا منظوم کلام البشری (فلسطین) جامعہ احمدیہ الفضل“ اور ” فاروق میں شائع شدہ موجود ہے۔نمونہ کے طور پر ، ' آپ کا ایک غیر منقوطہ قصیدہ درج کیا جاتا ہے جو آپ نے دہلی میں غیر احمدی علماء کو چیلنج دیتے ہوئے ۱۹۳۲ء میں شائع کیا تھا۔اس قصیدہ کے ساتھ ایک دوسرا قصیدہ اور سیکرٹری صاحب