اصحاب احمد (جلد 8) — Page 148
۱۴۹ کوٹھی میں مقیم رہے۔وہاں ایک کل ہند مشاعرہ میں حضور بھی تشریف لے گئے۔جس میں حافظ عبدالرحمن صاحب پشاوری نے حضور کی نظم۔ساغر حسن تو ہے کوئی مے خوار بھی ہو۔سنائی تھی۔جو بہت پسند کی گئی۔حضور شیخ پر کرسی پر رونق افروز تھے اور آپ کے قریب نواب صاحب بہاولپور تشریف رکھتے تھے حملے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت گذشتہ اوراق میں اس امر کا ذکر ہو چکا ہے کہ کس طرح قابل رشک رنگ میں ڈاکٹر صاحب کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طبی خدمات کے موقع میسر آئے۔ذیل میں ایک امر درج کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور کے ذمہ جو فرائض ہیں علیل ہونے پر ان کی سرانجام دہی کے باعث حضور پوری طرح علاج نہیں کروا سکتے تھے۔حضور کی شان یوں معلوم ہوتی ہے کہ ایک فوج دشمن سے نبرد آزما اور برسر پیکار ہو اور اس کے جرنیل کو بوجہ علالت کہہ دیا جائے کہ آپ کام نہ کریں۔بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ جرنیل ایسی پابندی قبول کر لے۔جب کہ اس کے احکام پر ہی ساری فوج بلکہ قوم کے مستقبل کا انحصار ہے۔خواہ عدم پابندی کی صورت میں اس کی صحت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچنے کا شدید خطرہ درپیش ہو۔دجالی فتنہ سے آخری لڑائی میں عہدہ برآ ہونا کوئی سہل امر نہیں۔احمدیت کی حضور کے عہد میں بے مثال ترقی کا راز حضور ہی کی محنت توجہ، انہاک ، چوکسی اور تضرعات میں ہے۔حضور نے جماعت کو جس رفیع مقام پر لا کھڑا کیا ہے اور قربانی جیسا ذوق پیدا کر دیا ہے یہ حضور کی سیرت کا ایک درخشندہ باب ہے۔پھر ایسے بیدار مغز ، ذہین و فہیم اور معروف الاوقات اور خود طب سے واقف وجود کے ساتھ جس کا معیار ہرامر میں نہایت ارفع و اعلیٰ ہے، بیالیس سال خدمت کی توفیق پانا ڈاکٹر صاحب پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔حافظ صاحب صحابی اور درویش مقیم قادیان خلف احمد جان صاحب پشاوری (صحابی ) بیان کرتے ہیں کہ وہاں اور نظم سنانے کا بھی مقابلہ ہوا۔جس پر، از نور پاک قرآں صبح صفار میده والی نظم حضرت مسیح موعود کی میں نے سنائی تھی۔(مؤلف)