اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 143 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 143

ママ مرزا سلطان احمد صاحب لاہور میں بیمار تھے۔تندرست ہو کر آئے ہیں۔لیکن یہ خیال زیادہ غالب نہ تھا۔ڈاکٹر صاحب کو اتنی شدید خوشی پہنچی جیسا شدید غم حضرت مسیح موعود کی وفات سے پہنچا تھا۔یہ رویا سن کر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب بہت مغموم ہو گئے۔آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور رقب قلب سے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب میرے لئے دعا کریں کہ میں بھی بقیہ حاشیہ - اس اعلان کے علاوہ آپ نے ایک ٹریکٹ الصلح خیر نامی شائع کیا جس میں تحریر فرمایا: ” میری عقیدت حضرت مسیح موعود کے ساتھ نہ صرف اس وقت سے ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کا دعویٰ کیا بلکہ ان ایام سے میں عقیدت رکھتا ہوں کہ جبکہ میری عمر بارہ تیرہ برس کی تھی۔میں تصدیق کرتا ہوں اور صدق دل سے مانتا ہوں کہ میرے والد صاحب مرحوم کی ہستی ایسی عظیم الشان تھی جو اسلام کے واسطے ایک قدرتی انعام تھا۔میں اپنے والد صاحب مرحوم مرزا غلام احمد صاحب کو ایک سچا انسان اور پکا مسلمان الموسوم سیح موعود علیہ السلام سمجھتا ہوں اور ان کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہوں اور میں اپنے آپ کو اس رنگ میں ایک احمدی سمجھتا ہوں۔آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ کیوں حضرت مولوی نورالدین صاحب یا میاں محمود احمد صاحب یا مولوی محمد علی صاحب کی بیعت نہیں کی۔اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کبھی اپنی زندگی میں باوجود اس کے کہ میرے والد صاحب مرحوم میری بعض کمزوریوں کی وجہ سے میرے فائدہ کے لئے مجھ پر ناراض بھی تھے اور میں اب صدق دل سے یہ اعتراف بھی کرتا ہوں کہ ان کی ناراضگی واجبی اور حق تھی۔باجود ان کی ناراضگی کے بھی میں نے کبھی اخیر تک بھی ان کے دعاوی اور ان کی صداقت اور سچائی کی نسبت کبھی کوئی مخالفانہ حصہ نہیں لیا۔جس کو میرے احمدی اور غیر احمدی دوست بخوبی جانتے ہیں جو قریباً ۳۰ سال سے میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اس سے زیادہ اور کیا میری صداقت ہوگی اور بائیں حالات کون کہہ سکتا ہے کہ میں ان کا مخالف یا ان کے دعاوی کا منکر ہوں۔جب یہ حالت ہے تو مجھے کوئی یہ الزام نہیں دے سکتا کہ میں ان کا منکر تھایا ہوں۔۔بیعت کیا چیز ہے ایک یقین اور صداقت کے ساتھ ایک مقدس انسان کے ہاتھ میں ہاتھ دینا اور اس کے ساتھ ہی صدق دل سے خدا کو اس امر پر شاہد کرنا۔پس میں اب تک اپنے