اصحاب احمد (جلد 8) — Page 136
۱۳۷ ہیں، آپ کو دیکھنے گیا تھا۔آپ اس وقت کشتی نہیں چلا رہے تھے بلکہ ڈھاب کے کنارے کھڑے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے لیکن میرا پیارا رب میری اس چھوٹی سی خواہش کو بھی پورا کر دیتا ہے۔چنانچہ ۱۹۱۹ء کے موسم برسات میں حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے ربڑ کی ایک نہ ہو جانے والی کشتی منگوا کر حضور کو دی۔سیر کے لئے اسے تھیلہ میں سے نکال کر چھڑیوں اور پھٹیوں سے جوڑ کر اور ربڑ اور کینوس کا خول چڑھا کر پندرہ سولہ سیر وزنی کشتی تیار ہو جاتی۔جس پر صرف دو آدمیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔یہ کشتی حضور نے میرے سپر د کر دی اور جب حضور کا منشاء ہوتا تو میں دس پندرہ منٹ میں کشتی تیار کر دیتا اور ڈھاب میں جو برسات کے دنوں میں خوب لبریز ہوتی حضور سیر کر لیتے اور اس وقت اکثر یہ عاجز ہی حضور کا ساتھی ہوتا تھا۔کبھی حضور چپو چلاتے اور کبھی میں یا دونوں ہی بیک وقت چلاتے تھے۔اسی طرح کی سیروں کا سلسلہ کئی سال تک موسم برسات میں جاری رہا۔ایک سال تو ڈھاب میں اس قدر پانی تھا کہ ہم نے بغیر اترنے کے پانی پانی میں کشتی کے ذریعہ قادیان کا چکر کاٹ لیا۔سبحان الله و بحمده سبحان الله العظیم کس عجیب رنگ میں اللہ تعالیٰ نے میری خواہش کو پورا کر دیا۔۱۹۱۷ء کی ایک رؤیا کا پورا ہونا ۱۹۱۷ء میں پٹیالہ میں رویا میں نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو مع اہل وعیال اپنے غریب خانہ میں تشریف لائے دیکھا۔چنانچہ 1919ء میں مجھے مستقل رہائش کے لئے وہ مکان مل گیا جو شہر میں حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کا ہے جو دارا اسے " کے ساتھ ملحق ہے۔بلکہ اس کا حصہ جو ہے۔جس کا تعلق ایک دروازہ کے ذریعہ دار اسیح سے ہے تو بسا اوقات حضور کی تشریف آوری میرے ناچیز کے مکان میں ہوتی رہی بلکہ بعض کاموں کی وجہ سے حضور کی آمد ان گنت بار ہوئی۔حضور کے اہل بیت بھی بارہا میرے ہاں تشریف فرما ہوتے رہے اور حضور کے بچے تو گویا میرے چھوٹے بھائی تھے۔یہ سب چھوٹے بڑے ایک دوسرے سے بڑھ کر مہربان بن کر ملتے تھے اور ملتے چلے آرہے ہیں۔فاللہ الحمد۔مجھے اس ملحقہ مکان کے باعث حضور کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کی بہت توفیق ملی۔