اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 128 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 128

۱۲۹ سامعین بہت متاثر ہوئے۔جن میں احمدیوں کے علاوہ بہت سے شہر کے تعلیم یافتہ مسلمان اور ہندو بھی تھے جو سننے کے لئے جمع تھے۔ایک ہندو تو پکار اٹھا کہ یہ کوئی دیوتا معلوم ہوتا ہے۔تقریر کے بعد حضور نے مغرب و عشاء دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھا ئیں۔پھر کچھ دیر کے لئے مجلس آرا ہوئے جب کہ جماعت پٹیالہ کی جانب سے حضور کے سامنے غیر مقدم کے طور پر ایک نظم پڑھی گئی۔نیز میرے پھوپھا حکیم رحمت اللہ صاحب نے ایک رباعی پڑھی۔جو حضور کی شان کے شایاں تھی۔پھر حضرت نے شام کا کھانا اس عالیشان مکان کے اندر تشریف لے جا کر کھایا جس مکان کے خوبصورت باغیچہ میں حضور ے تقریر فرمائی تھی۔یہ مکان بھی اس نیک وزیر کے بھائی کا تھا۔بعد تناول طعام حضور ریلوے اسٹیشن پٹیالہ پر تشریف لے گئے اور ریل پر سوار ہوکر اول را جپورہ پہنچے۔پھر وہاں سے دوسری ٹرین پر گیارہ بجے شب کے قریب امرتسر کی طرف روانہ ہو گئے۔تھوڑے وقت کی ملاقات سے مجھے سیری نہ ہوئی تھی۔سو میں نے عزم کر لیا کہ آئندہ سال تک میں اپنی موٹر خرید لوں گا اور اپنے آقا کو کئی دنوں کے لئے پٹیالہ ٹھہرا کر سیر کراؤ نگا کیونکہ اس تھوڑے وقت میں حضور جماعتی کاموں میں ہی مصروف رہے اور حسب منشاء پٹیالہ نہ دیکھ سکے اور بعض معزز ہندو دوستوں کی خواہش کو کہ کچھ دن اور ٹھہرمیں پورا نہ فرما سکے۔اللہ تعالیٰ کے بندہ محمود کے لئے موٹر کا انتظام اور دیگر شاہانہ انتظامات مندرجہ بالا قصہ میں بہت سے نشانات رحمت خداوندی نظر آتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے خاص بندوں پر خاص طور پر ہوتی ہے۔چنانچہ (۱) حضرت محمود ایدہ اللہ کو تھوڑے وقت میں بہت سے کام سر انجام دینے کے لئے موٹر درکار ہوئی اور اس نے اپنے ناچیز خادم حشمت اللہ کو شملہ سے لکھا کہ ہم اس صورت میں تمہارے پٹیالہ آ سکتے ہیں کہ موٹر کا انتظام ہو۔موٹر کا انتظام ہو گیا اور حضور نے اپنا پروگرام پورا فرمالیا لیکن دیکھئے کس خدائی انتظام خاص سے یہ موٹر مہیا ہوئی۔ناممکن حالات میں مجھے ڈاکٹر بنایا ، شہرت بخشی ، مالک موٹر کو اپنی بندوق کے پھٹ جانے سے زخمی کر دیا اور پھر اسے میرے زیر علاج لایا اور علاج کا اس قدر گرویدہ بنایا کہ باوجود متعصب ہونے کے وہ موٹر دینے پر مجبور ہو گیا۔