اصحاب احمد (جلد 8) — Page 118
۱۱۹ سرکاری ملازمت اور کرنل محمد رمضان کی لجاجت الغرض چار سالہ تعلیم با عزت حاصل کر کے اور کامیاب ہوکر ۱۲ جون ۱۹۱۲ء کو اپنے شہر پٹیالہ کے بہت بڑے ہسپتال میں متعین ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا کام افسروں اور پبلک میں مقبول ہوا اور تھوڑے ہی دنوں میں شہرت قائم ہوگئی۔میرے سپر د قیمتی سامان والا بہت بڑا اپریشن روم ہوا۔آنکھ کے مریضوں کی نگہداشت میرے ذمہ لگی اور پیشل وارڈ میرے سپرد ہوئے گویا زیادہ کا موں اور سامان کی ذمہ داری مجھ پر پڑی۔“ چار پانچ سال بعد جب کہ میں اپریشن روم کے باہر چبوترے پر کھڑا تھا کہ دیکھتا ہوں کہ وہی کرنل محمد رمضان سامنے سے میری طرف آ رہا ہے جبکہ تقریباً اس قدر فاصلہ رہ گیا جس قدر فاصلہ سے سات آٹھ سال پہلے اس نے مجھے بری طرح دھتکارا تھا۔تو اس نے جھک کر اور ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ جناب ڈاکٹر صاحب آداب عرض! مجھے اس وقت اپنے رب محسن کا چہرہ نظر آ گیا۔جس نے اس ناچیز احمدی کے لئے اس قدر غیرت دکھلائی کہ زیادہ عرصہ نہیں گذرتا کہ ایک ایسے شخص کو آج میرے سامنے غرض مند سائل کے طور پر لا رہا ہے اور اس سے مؤدبانہ سلام کروا رہا ہے کہ جس نے فرعونیت دکھلا ئی تھی اور محض اس لئے دکھلائی تھی کہ میں احمدی تھا اور حضرت مسیح موعود کو اپنے دعوی میں سچا جان کر ایمان لائے ہوئے تھا۔اس وقت میرا دل شکر رہی سے اس قدر بھر گیا کہ جی چاہتا تھا کہ شکر کرتا ہوا ز مین میں دفن ہو جاؤں یعنی اس کی خدائی پر اس ایمان پر میرا خاتمہ ہو جائے۔وہ کرنل آگے بڑھا اور مجھ سے یوں ملتجی ہوا کہ ڈاکٹر صاحب! میرے فلاں بزرگ کی آنکھ کا اپریشن ہونا ہے۔براہ مہربانی اس کا خیال رکھیں۔میرے رب نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا محسن رب ہے مجھے توفیق دی کہ میں اس کے ساتھ نیک سلوک کروں۔چنانچہ میں نے اس کو تسلی دی اور اس کے حسب منشاء کام کرنے کا وعدہ کیا۔میں اپنے رب کا بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس کا گذشتہ سلوک جتلانے سے قطعاً روک دیا بلکہ احسان کرنے کی توفیق دی۔واللہ الحمد۔