اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 2 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 2

کو کچھ دنوں کے لئے یہ کتاب دے دی۔حضرت مولانا صاحب کے ہاں مولا نا راجیکی صاحب نے اس کتاب سے حضرت اقدس کی وہ نظمیں پڑھیں۔ایک کا مطلع یہ ہے :- عجب نوریست در جان محمد عجب لعلی است در کان محمد اے اس نظم کے پڑھنے سے سوز و گداز سے آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔جب آپ نے یہ شعر پڑھا: - بیا کرامت گر چه بے نام ونشان است بنگر ز غلمان محمد ۲ تو یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش ہمیں بھی ان سے استفاضہ کا موقع ملتا۔جب آپ نے یہ شعر پڑھا:- کافر و ملحد و دقبال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے سے تو آپ کو ایسے لوگوں کے متعلق بے حد تاسف پیدا ہوا۔دریافت کرنے پر حضرت مولانا امام الدین صاحب نے فرمایا کہ یہ شخص مولوی غلام احمد ہیں اور مسیح و مہدی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور قادیان ضلع گورداسپور میں موجود ہیں۔اس پر آپ کی زبان سے یہ فقرہ نکلا (جو کہ حضور کے متعلق آپ کا سب سے پہلا فقرہ تھا) کہ دنیا بھر میں اس شخص کے برابر کوئی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق نہیں ہوا ہوگا۔آپ نے ۱۸۹۷ء میں غالباً ستمبر یا اکتوبر میں بیعت کا خط لکھ دیا۔جس کا جواب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی قلم سے موصول ہوا۔اس پر مولا نا امام الدین صاحب نے کہا کہ آپ نے بیعت کرنے میں جلدی کی ہے۔مناسب تھا کہ آپ تسلی کے لئے پوری تحقیق کر لیتے۔مولا نا راجیکی صاحب نے کہا کہ خدا کے فضل سے میری تسلی ہوگئی ہے۔حضرت اقدس کی زیارت کا آپ کو ۱۸۹۹ء میں موقع ملا۔اور اس وقت حضرت مولا نا امام الدین صاحب نے