اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 77 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 77

77 کہ اگر چہ میں ہر دو مذہبوں کو باطل خیال کرتا ہوں لیکن اتنا ضرور کہنا پڑتا ہے کہ بحیثیت مجموعی اسلام کو عیسائیت پر بدر جہا فضیلت اور فوقیت حاصل ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیوں نے ایک کمزور انسان کے بچے کو خدا کا بچہ رَبُّ الْعَلَمِین قرار دیا ہوا ہے۔حالانکہ اس نے کوئی خدائی کام نہیں کیا اور زمین نہیں بنائی اور اس کے خونِ بے سود اور کفارہ کی تعلیم نے یورپ کی اخلاقی حالت کا خون کردیا ہے مگر اسلام نے کوئی ایسا مسئلہ پیش نہیں کیا کہ جس سے اخلاقی حالت کو تنزل اور ضرر پہنچا ہو کیونکہ ہر ایک درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اس لئے کفارہ کا درخت زہر یلے ثمرات پیدا کرتا ہوا دیکھا گیا ہے۔مگر اسلام کے زیر اثر لوگوں نے ہزاروں کو بت پرستی سے چھڑایا اور ہزاروں بت خانوں کو اجاڑا۔بلکہ جس قدر بت پرستی، آتش پرستی ،مصر، روم ، فارس ، ہند وغیرہ سے اسلامیوں نے دور کی ہے اس کی نظیر کسی اور مذہب والوں میں تلاش کرنا عبث ہے۔بلکہ اس وصف میں تو ہمیں بھی اسلامیوں کے سامنے شرمسار ہونا پڑتا ہے پس ہمیں مجبوراً کہنا پڑتا ہے کہ اسلام کو عیسائیت پر فوقیت حاصل ہے۔بعد ازاں ہم ایک پادری صاحب کے پاس گئے اور استفسار کیا کہ اگر آپ وید اور قرآن کے اصول اور مذہب کا بے لاگ موازنہ کریں تو بحیثیت مجموعی آپ کسی مذہب کو ترجیح دیں گے۔اسلام کو یا ویدوں کے مذہب کو؟ پادری صاحب نے کہا کہ اگر چہ مجھے ہر دو مذہبوں کے بکنی راست اور درست ہونے میں کلام ہے لیکن اتنا کہے دیتا ہوں کہ اسلام آریہ مذہب کی نسبت بدرجہا بہتر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل اسلام اکثر ان صداقتوں اور اصول اور انبیاء علیھم السلام پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا ادب کرتے ہیں جن کے ہم قائل اور واعظ ہیں اور جنھوں نے وقتاً فوقتا لوگوں کو گمراہی اور شرک وغیرہ سے بچایا میں نے معترض کو بتایا کہ بیٹے کی گواہی ماں باپ کے عوض قبول نہیں کی جاتی۔ہر ایک کا اپنے مذہب کو حق کہنا نا قابل قبول ہے کیوں کہ اس میں اس کی ذاتی غرض شامل ہے۔اسلام عیسائت و ہند و دھرم تین بڑے مذاہب میں سے عیسائیت اور ہندو دھرم کے نمائندوں کی اسلام کی برتری کے متعلق گواہی باوجود اسلام کے مخالف ہونے کے وقعت رکھتی ہے۔سوساری دنیا اسلام کی حقانیت کی قائل ہے۔اب چمگادڑ دن کو رات کہے تو ایسے کور چشم کی لاف گزاف سے آفتاب کی تکذیب نہیں ہو سکتی ( خلاصتہ ) وہ اس جواب کو سن کر حیران ہو گیا اور کہا کہ بے شک آپ نے اسلام کو کچھ دیکھ کر قبول کیا ہے اور بے وجہ اپنے مذہب اور والدین کو خیر باد نہیں کہا لیکن میں کیا کروں گھر والوں اور رشتہ داروں کا فکر اور اندیشہ ہے وہ مجھے لعن طعن کریں گے اور ممکن ہے کہ بعض تکالیف بھی پہنچا وہیں اس لئے میں آپ کی طرح گھر والوں کو ترک نہیں ،، کر سکتا ، (73)