اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 76 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 76

76 مخالفین سے لگانے کا ذکر فر مایا تھا اور فرماتے تھے کہ بات پوری ہونے پر پھر یہ مخالفین آپ سے چھپتے پھرتے۔2 سردار بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ جب کبھی اپنے کسی بچے کی شادی کا ارادہ فرماتے تو ایک رجسٹر پر جو اس غرض کے لئے رکھا ہوا تھا اس پر چند سطور میں مقصد لکھ کر نیچے دس پندرہ مخلصین کے اسماء درج فرماتے اور ان ناموں کے آگے دستخط کروا لئے جاتے۔میں نے یہ رجسٹر دیکھا ہے۔ایک دفعہ حضرت والد صاحب کا نام بھی استخارہ کے لئے حضور نے رقم فرمایا تھا۔بعد استخارہ یہ اصحاب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو اپنی خواب وغیرہ سے اطلاع دیتے تھے۔جواب کا القاء ہونا:۔جماعت احمدیہ کا یہ تجربہ ہے کہ جو شخص حسن نیت سے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے تبلیغ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عین وقت پر جواب سمجھا دیتا ہے۔ایک بحث میں حضرت ماسٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حقانیت کے متعلق ایک عجیب دلیل سمجھائی۔آپ لکھتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھے ایک آریہ مہاشہ سے مذہبی گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا۔اس نے کہا کہ تم نے جو اپنا قدیمی مذہب چھوڑا ، اور اپنے والدین اور دیگر رشتہ دار اور دنیاوی وسائل منفعت ترک کئے ہیں۔۔۔۔۔اگر در حقیقت آپ کے نزدیک اسلام اور قرآن شریف صداقت کے آفتاب ہیں تو جس طرح ہم اس ظاہری آفتاب کے وجود کے قائل ہیں اسی طرح آپ بھی قرآن کریم اور اسلام کو سراجاً منیر ا مانتے ہوں گے اور ہمیں قائل کرسکیں گے۔۔۔۔یہ اعتراض ختم نہ ہوا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ایک عجیب ثبوت دربارہ حقیقت اسلام میرے دل میں ڈالا جس سے میں خود اب تک حیران ہوا کرتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ میں نے کہا کہ بے شک جس طرح دنیا آفتاب کو نافع مان رہی ہے اور کوئی اس کے وجود اور فوائد سے انکار نہیں کر سکتا اسی طرح بلا کم و کاست اسلام کی سچائی اور حقانیت بھی میرے نزدیک پایہ ثبوت کو پہنچی ہوئی ہے اور کوئی اس کے نافع وجود سے انکار نہیں کر سکتا اور وہ تفصیل ذیل ہے۔دیکھنا چاہیے کہ دنیا میں یوں تو ہر ایک اپنے آپ کو صراط مستقیم پر گمان کرتا ہے۔پس جب خودستائی کی یہ حالت ہے تو اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں کہ ہر ایک مدعی اپنے طریق مذہب کی حقانیت کا ثبوت اور شہادت غیر مذہب کے لوگوں سے دلاوے نہ یہ کہ اپنی ہی صداقت پر صرف اپنی یا اپنوں ہی کی گواہی اور شہادت پر۔۔۔۔۔۔اکتفا کیا جاوے۔بہتر ہے کہ ہم فلاں آریہ پنڈت صاحب سے پوچھیں کہ وہ اسلام اور عیسائیت کے بارے میں بحیثیت مجموعی کیا رائے اور فیصلہ دیتا ہے، الغرض پنڈت صاحب کی طرف سے یہ گواہی اور فیصلہ پیش ہوا