اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 69 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 69

69 69 دفعہ محض تبلیغ کی خاطر بٹالہ جاتے۔ایک ایک گتہ میرے آگے پیچھے لٹکا دیتے۔ایک گنتہ اپنے گلے میں لٹکا لیتے۔لوگ پس اگر حضور کے شاگر نبوت کا انعام حاصل نہ کر سکیں جس سے حضور کی امت کی اصلاح ہوتی رہے تو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں تعلیم و تربیت کی خاطر ۴۰۰ اسو سال تک انسپکٹر اور مجد داور صدیق آتے رہے اب جب کہ اہل اسلام بہتر فرقوں میں تقسیم ہو کر دین اسلام سے بے خبر اور نام کے مسلمان رہ گئے۔تب اللہ تعالیٰ نے باغ محمد کے نشو و نما کے لئے امتی نبیوں اور صدیقوں کا سلسلہ جاری کر دیا جس سے غیر مسلم ہندو، عیسائی اور یہودی محروم اور بے نصیب ہیں پس آیات متذکرہ بالا کی رو سے ہم محمد رسول اللہ کوحقیقی معنوں میں زندہ نبیوں کا بادشاہ اور سردار کہتے ہیں۔حضور کو مر دوں کا بادشاہ اور سردار قرار دینا موجب سلب ایمان ہے اسی بین ثبوت سے اسلام ہی زندہ مذہب ہے اور دوسرے مذاہب مُردہ ہیں۔غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اے مولیٰ کریم ! ہمیں یہود اور نصاری کی راہ پر نہ چلائیو۔کیونکہ وہ آئندہ نبیوں صدیقوں ،شہداء اور صلحا کے پاک وجودوں کے پیدا ہونے سے محروم اور بے نصیب ہو چکے ہیں۔آج کل کے اسلامی علماء حال اور قال سے اعتقاد ر کھتے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ کی طرح ہم بھی امتی نبیوں۔صدیقوں ،شہیدوں اور صلحا کے پاک وجودوں سے محروم ہو چکے ہیں کیونکہ نبوت یا رحمت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔حق یہ ہے کہ نزول عیسی کی امید موہوم سے مسلمان نہ دین کے رہے نہ دنیا کے حالانکہ وفات عیسی قرآن میں تمہیں مرتبہ آئی ہے اگر کوئی صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث سے بھی عیسی کا خا کی جسم سمیت زندہ آسمان پر جانا اور کسی زمانہ میں دوبارہ زمین پر خا کی جسم کے ساتھ آنا ثابت کر دے تو اسے ہیں ہزار روپے تاوان دوں گا “۔(63) بانی جماعت احمدیہ نے آج سے ۵۴ سال پہلے کا انعام مقرر کیا ہوا ہے۔لیکن کسی کو حوالہ پیش کرنے کی جرات نہ ہوئی۔درود شریف دوسرا جز واعظم اسلامی نظام کا درود شریف ہے جس میں ہم روزانہ ۳۰ ، ۴۰ مرتبہ یہ دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے مولا کریم ! جس طرح تو نے ابراہیم اور ابراہیم کی اولاد اور امت میں بے شمار نبی اور بادشاہ بنائے تھے۔اسی طرح محمد ﷺ اور حضور کی امت مرحومہ میں بھی اپنے فضل و کرم سے انبیاء اور بادشاہ بناتے رہیو اور اسی روحانی اور جسمانی بارش کی تشریح قرآن کریم میں یوں آئی ہے۔جَعَلَ فِيُكُمُ انْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمُ مُلُوكاً (64) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان میں بے شمار نبی اور بادشاہ بناے یعنی ابراہیم کی امت میں جب بے شمار اور بادشاہ بنائے گئے تھے اسی طرح اے مولا کریم ! مسلمانوں میں بھی انبیاء اور بادشاہ بناتے رہیو! پس صاحبواگر امت محمدیہ میں نبی اور بادشاہ نہیں ہونے تھے تو درود میں اور کون سی دعامانگتے ہو اس پاک غرض کے بغیر دروشریف بے فائدہ ہوگا۔حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسی (کونسا بڑا ہے؟) إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ۔۔۔يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ اسْلَمُوا (65) سے ثابت ہے کہ موسیٰ اور توریت کے متبع ہزار ہا نبی آئے تھے۔خود موسیٰ کا بھائی ہارون موسیٰ کا وزیر بھی تھا اور نبی بھی تھا۔اسی طرح قرآن شریف کے پارہ ۵ رکوع ۹ سے امتی نبیوں صدیقوں کا آنا ثابت ہے جو قیامت تک آتے رہیں گے۔