اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 62 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 62

62 تردید میں شیخ صاحب نے ایک مفصل بیان شائع کیا جس میں بتایا کہ مجسٹریٹ نے یہ الفاظ محض دل آزاری کے لئے استعمال کئے اور باوجود احتجاج کرنے کے ان کا تکرار کیا۔حالانکہ غیر مسلم بھی اپنے کسی مذہبی بزرگ کے لئے ایسے الفاظ استعمال پسند نہ کریں گے۔امام جماعت کے مقدمات کی پیروی ( گویا مالی منفعت کا لالچ ) احتجاج کا موجب نہیں بنا۔مشہور دو مقدمات عطاء اللہ بخاری میں میں جماعت احمدیہ کے مخالف فریق کی طرف سے وکیل (46) تھا۔اور ربع صدی میں امام جماعت احمدیہ کے دو یا تین سے زیادہ مقدمات میں نے نہیں کئے۔زیادہ تر احمد یوں کے مخالف فریقوں کی طرف سے وکالت کرتا رہا ہوں۔6 اخویم شیخ ارشد علی صاحب پلیڈر ( حال مہاجر سیالکوٹ ) کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے انہوں نے اس (47) مقدمہ کا محنتانہ واپس کر دیا اور کہا کہ میں مفت پیروی کروں گا کیوں کہ یہ مقدمہ ایک ایسے امر کے متعلق ہے جو جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے جس کی اشاعت ہم پر فرض ہے۔) فیصلے کے متعلق الفضل میں مرقوم ہے: بٹالہ ۱۲ار جنوری۔جناب ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی اے نو مسلم سابق سردار مہر سنگھ کو۔۔۔۔۔زیر دفعہ ایکٹ ۲۳/ ۱۸ - ۱۹۳۱ء قید کی انتہائی سزا یعنی چھ ماہ قید سخت اور ایک سو روپیہ جرمانہ جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں ڈیڑھ ماہ مزید قید سخت کا حکم دیا۔شہادت صفائی کے بعد جو آج ہی تین بجے کے قریب ختم ہوئی تھی۔جناب ماسٹر صاحب نے درخواست کی کہ بحث کے لئے ایک دن کا التوا کیا جائے تا کہ باہر سے کوئی وکیل بلایا جا سکے۔مگر اسے نامنظور کر دیا گیا اور بحث کے لئے صرف چند منٹ دیئے گئے۔سزا کا حکم چار بجے کے قریب جب کہ (49) عدالت کا وقت ختم ہو رہا تھا سنایا گیا اور فیصلہ سنانے سے قبل عدالت نے سوائے جناب ماسٹر صاحب موصوف کے باقی لوگوں کو کمرہ عدالت سے باہر چلے جانے کے لئے کہا اور کمرہ بند کر لیا گیا۔سزا کا حکم جناب ماسٹر صاحب موصوف نے نہایت بشاشت اور خوشی کے ساتھ سنا۔اور جب ان کو ہتھکڑی پہنائی گئی تو انہوں نے اظہار مسرت کے لئے اسے چوما۔سزا کا علم ہونے پر عدالت کے باہر مجمع نے اللہ اکبر۔اسلام زندہ باد۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب زندہ باد اور حضرت بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ کے نعرے بلند کئے اور جب ماسٹر صاحب موصوف ہتھکڑی پہنے ہوئے باہر آئے تو ان کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے۔ماسٹر صاحب موصوف اس وقت بہت خوش و خرم تھے۔تمام مجمع یہ نعرے لگاتا ہوا ان کے ہمراہ اس لاری تک گیا جس پر سوار کر کے پولیس انہیں گورداسپور لے گئی۔معلوم ہوا ہے کہ ماسٹر صاحب نے جیل جاتے وقت نو جوانوں کو یہ