اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 60 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 60

60 60 (42) نہایت مفید ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب فرماتے ہیں: ماسٹر عبدالرحمن نے نہایت جانگداز محنت اور در دمندی سے کتاب لکھی ہے اور ہماری امیدوں سے کہیں بڑھ کر لکھی ہے اور فی الجملہ علی الجملہ بہتوں کے لئے ہدایات کا موجب ہوگی۔انشاء اللہ رض حضرت مولوی نورالدین صاحب فرماتے ہیں: جہاں تک میرا فہم ہے میں جرات کر کے لکھتا ہوں کہ اختیار الاسلام سے معلوم ہو جائے گا کہ حق کی پیاس کیا چیز ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں میں اس کتاب کو بہت پسند کرتا ہوں سلیس اور عام فہم ہے۔(۳۶) حضرت بابا نا تک رحمتہ اللہ علیہ کادین دھرم چار صفحے کا پمفلٹ تفصیلی ذکر آگے آتا ہے۔فی سبیل اللہ قید ہونا مقدمہ کی تفصیل : مذکورہ بالا پمفلٹ کے شائع ہونے پر حکومت کی طرف سے بھائی جسونت سنگھ علاقہ مجسٹریٹ بٹالہ کی عدالت میں حضرت ماسٹر صاحب پر مقدمہ دائر کیا گیا۔آپ کی پیشی ۲۴ نومبر ۱۹۳۷ء کو بٹالہ میں ہوئی۔آپ کی طرف سے شیخ ارشد علی صاحب ( حال سیالکوٹ ) چوہدری عصمت اللہ صاحب ( حال لاہور اور شیخ چراغ دین صاحب پلیڈر گورداسپور پیش ہوئے۔آج ایک درخواست دی گئی جو بدیں وجہ مجسٹریٹ نے نامنظور کر دی کہ یہ بات پہلے پیش ہو چکی ہے اور میں اس پر غور کر چکا ہوں۔مضمون یہ تھا کہ پمفلٹ نیوزشیٹ ہے اور بغیر اجازت شائع کیا گیا ہے استغاثہ کے نزدیک ملک معظم کی رعایا کے مختلف فرقوں میں اس پمفلٹ سے دشمنی یا منافرت پیدا ہوئی ہے لیکن اس کے ثابت ہونے سے بھی پمفلٹ کا نیوز شیٹ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا، اس لئے اس پر بحث کا موقعہ دیا جائے ، اس طرح عدالت کا قیمتی وقت اور حکومت اور مظہر کے اخراجات بھی بچ جائیں گے۔نیز اس دفعہ کے ماتحت کوئی کتاب تب آتی ہے جب کہ لوکل گورنمنٹ کو معلوم ہو کہ اس سے منافرت پیدا ہونے کا امکان ہے اس کے لئے گزٹ ہونا ضروری ہے جو نہیں ہوا اس لئے دعوی قبل از وقت ہونے کے باعث خارج ہونے کے قابل ہے۔اگلے روز پھر پیشی تھی لیکن کاروائی کے آغاز سے قبل ہی گیانی عباداللہ صاحب اور مہاشہ محمد عمر صاحب کو جنھوں نے وکیل کو حوالجات نکال کر دینے تھے مجسٹریٹ نے عدالت میں بیٹھنے سے روک دیا اور وہ گواہ پر جرح یہ تمام آرا۔سرورق پر درج ہیں۔☆