اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 56 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 56

56 جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی کتاب ہے۔صفحات ۳۷۔سائز ۳۰/۱۶×۲۰ کتاب محمد رسول اللہ کا تفصیل سے جو آگے آتی ہے ظاہر ہے کہ کتاب ہذا ۱۵۔۷۔اسے قبل طبع ہو چکی تھی۔(۲۵) سوال و جواب نمبر ا۔امامت و خلافت صفحات ۳۰۔اس میں خلافت ثانیہ کا ذکر آتا ہے چونکہ آخر پر بطور اشتہار انگریزی ترجمہ حصہ اول و سوم کا نام مرقوم ہے جس کے حصہ دوم کی تاریخ زیادہ سے زیادہ ۲۰۔۹۔۶ ہے سکولوں اور کالجوں کے طلباء کا اشتہار درج ہے جو ۱۵۔۱۰۔۳۱ کے قریب کی تصنیف ہے اس لئے یہ اس درمیانی عرصہ کی تصنیف ہوگی۔(قیمت پون آنہ) اس میں یہ وعدہ درج ہے کہ نمبر ۲ ایمانیات اور نمبر ۳ نیک اعمال کے متعلق تصنیف ہوگی نہ معلوم کہ یہ حصص شائع ہوئے یا نہیں۔(۲۶) احمدی یا غیر احمدی اختلافی مسائل کو مکالمہ کے رنگ میں عمدگی سے بیان کیا ہے اور غیر (40) مبایعین کے عقائد کا بطلان دکھایا ہے۔(۲۷) ” کیا مسلمان قوم مٹ جانے کو ہے کتاب ” اسلام اور گرنتھ صاحب میں اس کے متعلق اعلان ہے کہ زیر طبع ہے اس میں ثابت کیا ہے کہ موجودہ قوم مسلمان ہو کر نئی شکل میں عروج کرے گی“۔(ص۶۴) (۲۸) رسالہ نیوگ اس کا اعلان ” اختیار الاسلام حصہ چہارم کے آخری صفحہ پر درج ہے (۲۹) ضرورت زمانہ اس کا پورا نام ہے اسلامی سکولوں کے طالب علموں کے لئے اسلام کی دوسری کتاب یا ضرورت زمانہ اس میں عیسائیوں اور آریوں کے یک صد اعتراضات بابت طلاق ،شق القمر، حجر اسود، عرش کرسی وغیرہ کے جوابات سوال و جواب کی شکل میں تحریر کئے ہیں۔الفضل نے ان جوابات کو تسلی بخش ، دل نشین و عام فہم قرار دیا ہے۔(41) عام دیا ہے۔دیباچہ میں لکھا ہے کہ اس کی غرض وغایت نوجوانوں کو دینی واقفیت بہم پہنچانا ہے۔غالباً عام مسلمانوں میں اشاعت کی خاطر اسے ماسٹر عبدالرحمن نو مسلم متوطن ریاست کپورتھلہ اور نو مسلم لنگے منڈی۔لاہور کے طور پر شائع کیا ہے۔سائز ۳۰/۱۶ × ۲۰ صفحات ۲۰۰ تاریخ طبع ۱۹۰۹ ء اس کے اشتہارات تفخیذ الاذہان بابت دسمبر ۱۹۰۹ء ( آخری صفحہ ) اور دسمبر ۱۹۱۲ ء ص (۵۷۱) میں درج ہے ( قیمت نصف روپیہ و ایک روپیہ) (۳۰) محمد رسول اللہ۔اس میں تورات و انجیل سے اور عقلی و نقلی دلائل سے آنحضرت کی صداقت اور کفارہ کے بطلان کا اثبات کیا ہے۔صفحات ۵۰ ایک کتاب جو بغیر ابتدائی سرورق کے ملی ہے اور غالبا پیغامیوں اور مولوی محمد علی صاحب کا رد ہے اس کے آخر پر کتاب ہذا کا اشتہار درج ہے جس میں ماسٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ” ( یہ ) عیسائیوں کے دو تین رسالوں