اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 27 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 27

27 مولوی فاضل گیارہ حکیم اور ڈسپنسر ہیں۔تقسیم ملک کے بعد ہی ایک گریجویٹ ایک مولوی فاضل اور چھ گیانی رتن بھوشن۔پر بھا کر اور بدھی اور چودہ ادیب۔ادیب عالم اور ادیب فاضل بن گئے ہیں۔تین لوہار اور نتجار، آٹھ معمار اور پانچ درزی اور ایک ریڈیو میکر ہیں۔درویشوں کے اہل و عیال اور صدرانجمن کی ملازمت کے لئے آنے والوں اور طلباء سمیت قادیان کی احمدی آبادی قریباً آٹھ سو افراد پرمشتمل ہے۔(۲) اغواشدہ مسلم و غیر مسلم مستورات کی برآمدگی کے سلسلے میں حسب توفیق خوش کن کام کیا ہے۔غیر مسلموں کی کئی قسم کی امداد کی ہی ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر سیلاب ۱۹۵۵ء کے مواقعہ پر ہزار ہا روپے کی ادویہ، غذائیں اور پارچہ جات تقسیم کئے اور حکومت کے کارندوں سے پہلے پہنچ کر خدمت کا کام کیا ہے۔(۳) پنجاب میں صداقت شعاری۔راست گفتاری اور نیک کرداری کا اعلیٰ نمونہ قائم کیا ہے بہت سے سکھ ہمیں کہتے ہیں کہ ہماری قوم بہت بہادر ہے لیکن وہ ننکانہ صاحب جیسی پوتر بھومی کو بھی آباد نہ رکھ سکی۔ہم تو درویشوں کی صرف اس خوبی کو ہی دیکھ کر حیران ہیں کہ قادیان میں دیار حبیب میں دھونی رما کے بیٹھے رہے اور اپنی جان کی بازی لگا دی۔کی تبلیغ ہوئی۔(۴) قطع نظر دیگر علاقوں کے صرف قادیان ہی میں ان تیرہ سالوں میں قریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو اسلام (۵) شری گیڈگل گورنر پنجاب ہماری طرف سے دعوت دئے جانے پر قادیان تشریف لائے اور بخوشی انہوں نے قرآن مجید کا ہدیہ قبول کیا۔اور یہ فرمایا کہ سکھ نیشنل کالج میں میں نہیں گیا کیونکہ کالج والوں نے مجھے ضلع میں آنے کے بعد مدعو کیا ہے اور جماعت احمدیہ نے مجھے چندی گڑھ میں قادیان آنے کی دعوت دے دی تھی۔قادیان کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ کسی گورنر کی آمد کا تھا۔مشرقی پنجاب کے وزراء، احکام اور اعلیٰ طبقے میں جماعتی لٹریچر کی کافی اشاعت ہوئی ہے ، سنت و نو با بھا دے جی جو گاندھی جی کے خاص چیلے اور جانشین ہیں۔دعوت دئے جانے پر اپنا پروگرام تبدیل کر کے قادیان تشریف لائے اور قرآن مجید مترجم خود خواہش کر کے لیا۔سابق کمانڈر انچیف جنرل کر یا یا اپنے عہد میں اور جنرل تھمایا ( جواب چیف آف دی جنرل اسٹاف ہیں ) بھی قادیان تشریف لائے ہیں۔(4) ڈاکٹر عبدالسلام صاحب احمدی جو مشہور سائنس دان ہیں اور تین چار سال سے امپیریل کالج لندن کے پروفیسر ہیں اور گذشتہ سال پاکستان سے ”ستارہ ہلال“ کا خطاب اور میں ہزار روپے کا انعام حاصل کر چکے ہیں حکومت ہند کے خرچ پر دہلی سے قادیان آئے۔جب کہ وہ انڈین سائنس کانگریس کے اجلاس میں شمولیت اور بھارت یو نیورسٹیوں میں لیکچر دینے کے لئے بلائے گئے تھے۔یہ امر یہاں کے باشندوں کے لئے باعث حیرانی تھا