اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 221 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 221

220 یہ انتظام فرمایا کہ مشرقی پنجاب سے جو احمدی لاہور آئے اسے کھانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر سے ملے اور پاکستانی جماعتوں کو یہ ہدایت دی کہ ہم آپ لوگوں کے پاس مہاجروں کو بھیجتے جائیں گے۔آپ ان کی رہائش و قیام کا انتظام کریں۔یہ انتظام حضور کی زیر ہدایت و نگرانی ایک دفتر کے سپر د تھا۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نہایت احسن طریقے سے مہاجرین کو آباد کر دیا۔فجزاه الله احسن الجزاء في الدنيا والآخرة _اے خدا! ایسے پاک وجود کو ہمارے سروں پر رہتی دنیا تک دائم وقائم رکھے آمین۔جائنٹ ناظر بیت المال سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب کی آمدن تشخیص کرانے کے بعد جماعتوں کا چندوں کا بجٹ تجویز کرانے کے لئے علیحدہ علیحدہ حلقوں کے لئے الگ الگ جائنٹ ناظر بیت المال مقرر فرمائے۔چنانچہ حضرات صاحبزادگان مرزا بشیر احمد صاحب ، مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب وغیر ہم کے ساتھ چوہدری برکت علی خانصاحب کو بھی جائنٹ ناظر بیت المال مقرر فرمایا۔آپ کا حلقہ دہلی ،شملہ،انبالہ، رہتک ، حصار، گوڑ گاؤں اور علاقہ کشمیر تھا (16) سلسلہ کے ریکارڈ میں آپ کا نام ذیل میں آپ کی بعض دیگر خدمات کا ذکر کیا جاتا ہے۔نیز بعض اخبارات سلسلہ کے حوالے بھی درج کئے جاتے ہیں۔(۱) سلسلہ عالیہ احمدیہ کے آغاز میں اکثر افراد کی مالی حالت بھی نہایت کمزور تھی۔اس لئے وہ اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دیتے تھے جیسے آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں سے بعض بچو کی مٹھی یا چند کھجور میں دینے والے بھی تھے اور ان کے یہ قلیل ترین نظر آنے والے چندے بعد کے زر و جواہرات سے لاکھوں درجہ بیش قیمت اور مقبول تھے۔ان کے تقویٰ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا نوازا کہ چند سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم وعدیم المثال انقلاب بر پا کر دیا۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاک صحابہ کا تھا۔ان کے چند پیسے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں جو قدرو قیمت رکھتے تھے وہ ان انقلابات سے ظاہر ہے جو تمام ممالک کی سعید روحوں میں ہمارے دیکھتے دیکھتے اللہ تعالیٰ پیدا فرما رہا ہے اور امراء یورپ آنحضرت کے در کے غلام بنتے جارہے ہیں اور تثلیت کے گڑھ صدائے اللہ اکبر سے گونجنے لگے ہیں۔محترم چوہدری صاحب کو الحکم کے دفتر میں کام کرنے کا معاوضہ پانچ سے دس روپے تک ملتا تھا۔الحکم