اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 217 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 217

217 کے بڑے گاؤں چھت کہلاتے تھے اور چھوٹے گاؤں ”مکان‘۔چھت والے لوگ راجپوت ”مکان والوں سے لڑکی لیتے تھے مگر دیتے نہ تھے جب راجپوت مسلمان ہوئے تو وو یہ دو رسوم بھی اپنے ورثہ میں لے آئے جس پر دو آبہ کے مسلمان راجپوت عامل رہے۔“ دوآبہ کے مسلمان راجپوتوں میں یہ دستور تھا کہ جے پور راجپوتانہ کے ہندو بھاٹ مختلف اوقات میں آتے اور ہر مسلمان راجپوت کے مقام پر جا کر راجپوتی نسل کا شجرہ رکھتے جس راجپوت نے غیر قوم میں شادی کی ہوتی اس کا نام اپنے شجرہ میں نہ لکھتے بلکہ وہاں ہی شجرہ بند کر دیتے۔چنانچہ میں کوئی بارہ سال کا ہوں گا کہ اس وقت بھاٹ گڑھ شنکر آئے تھے اور میرا نام ان کے شجرہ میں لکھا ہوا ہے وہ ایک روپیہ فی کس اندراج کی فیس لیتے تھے۔چونکہ گڑھ شنکر اپنی جگہ ایک بڑا چھت، تحصیل گڑھ شنکر دنواں شہر میں ہے اس لئے اردگرد کے تمام راجپوت گاؤں سے لڑکیاں لیتا ہے۔وہاں لڑکیاں دیتا نہیں۔مگر میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل ورحم کے ساتھ احمدیت میں آکر تقوی اللہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی تینوں لڑکیوں کی شادی کا ٹھ گڑھ، پنام متصل گڑھ شنکر اور سر وعہ کے مکانات پر کر کے اس رسم کوتوڑ دیا۔اپنی بڑی لڑ کی محترمہ حمیدہ بیگم (مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ ) کا نکاح مکرم چوہدری محمد اسمعیل خاں صاحب کا ٹھ گڑھی ( صحابی حال مقیم ربوہ) سے کر دیا۔سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کا خطبہ ارجون ۱۹۳۴ء کو پڑھتے ہوئے فرمایا۔" گلے کی تکلیف کی وجہ سے میں زیادہ بول نہیں سکتا اور میں نے اس نکاح کا اعلان خود کرنا اس لئے منظور کر لیا تھا کہ میری نگاہ میں فریقین مخلص ہیں۔چوہدری برکت علی صاحب جن کی لڑکی کا نکاح ہے بچپن سے قادیان آئے اور ان چند اشخاص میں سے ہیں جو محبت ، کوشش اور اخلاص سے کام کرنے والے ہیں اور جن کے سپرد کوئی کام کر کے پھر انہیں یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ان افراد میں سے ایک فرد عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلوی مرحوم تھے۔وہ میرے ہم جماعت تھے نواب محمد علی خاں صاحب قادیان میں آمد کے ساتھ جن دولڑکوں کو لائے تھے ان میں سے ایک وہ تھے۔میرا ان کے متعلق ہمیشہ یہ تجربہ رہا کہ جس کام پر وہ لگے اسے اس تندہی اور انہماک سے کیا کہ اس طرح اپنا کام بھی کم لوگ کرتے ہیں۔کوئی کام بیاہ شادی کا یا پبلک سے تعلق رکھنے والا کسی کا ہوتا اس میں منتظم بن جاتے اور خوب سرگرمی سے کرتے۔دوسرے اس رنگ میں کام کرنے والے شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی ہیں۔رفاہ عام کا کوئی کام ہو نہایت بشاشت استقلال اور شوق سے کرتے ہیں۔عام پبلک کاموں میں تو میں نے چوہدری برکت علی صاحب کو نہیں دیکھا۔مگر جن کاموں پر ان کو لگایا گیا ان کے متعلق میرا ذاتی تجربہ اور افسروں کی رپورٹ یہی ہے کہ اخلاص اور سرگرمی سے کام کیا۔