اصحاب احمد (جلد 7) — Page 203
203 ہے حضور نے نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کل بیعت کر لینا۔میں نے اس وقت دیکھا کہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ثم عرفانی ایڈیٹر الحکم ایک ٹمٹماتے چراغ کی بہت مدہم سی روشنی میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے جو کلمہ نکلتا ہے کھڑے کھڑے پنسل سے نوٹ کر رہے ہیں۔بعد فرمایا۔دوسرے دن جب نماز مغرب کے بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام شہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے تو تھوڑی دیر بیعت کرنے والے آگے آجائیں“ آپ شہ نشین سے اتر کر مسجد کے فرش پر تشریف فرما ہوئے اور بیعت ہوئی۔میرے ساتھ دو اور دوست بیعت کرنے والے تھے۔بیعت کے بعد حضور علیہ الصلوٰہ والسلام نے مع جماعت دعا فرمائی اور حضرت ایڈیٹر صاحب الحکم نے اپنی نوٹ بک میں ہر سہ کے نام لکھ لئے۔اس وقت بیعت کنندگان کے نام اخبار الحکم میں شائع ہوتے تھے۔میرا نام اگست ۱۹۰۲ء کے الحکم میں شائع ہوا * بیعت کے بعد قریباً ایک ہفتہ قادیان میں حضور کی صحبت میں رہ کر بعد اجازت گڑھ منکر واپس آیا۔قادیان میں رہنے کا فیصلہ اور ایڈیٹر الحکم کی طرف سے امداد گھر آنے کے بعد ہر وقت دل میں یہ خواہش ہوتی کہ کاش مجھے قادیان میں حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام کی خدمت میں رہنے کا موقع ملتا۔سال ڈیڑھ سال بعد دل نے فیصلہ کیا کہ میں قادیان میں رہوں گا۔خواہ وہاں فاقہ کرنا پڑے یا محنت مزدوری کر کے گزارہ کرنا ہومگر رہوں گا قادیان میں۔چنانچہ ۱۹۰۴ء میں میں قادیان میں آگیا۔ایڈیٹر الحکم چونکہ میرے ہموطن تھے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا کہ وہ مجھے کوئی کام دیں انہوں نے فرمایا اخبار الحکم کا کام کریں۔اخبار کی دستی لکھنا۔چٹیں بنانا۔ان کو اخبار پر لگانا اور ٹکٹ وغیرہ لگا کر ڈاک خانہ پہنچانا آپ کا کام ہوگا۔میں نے کہا کہ الحمد للہ میں اسے بخوشی کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میں اس کے لئے صرف پانچ روپے ماہوار دوں گا۔میں نے کہا الحمد للہ کہ قادیان رہنے کا سامان اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔غالباً دوسرے مہینے شیخ صاحب نے سات روپے دینا شروع کئے۔میں نے الحکم ۱۹۰۴ء سے ۱۹۰۸ء تک کام کیا ۱۹۰۸ء کے آخر میں حضرت شیخ صاحب نے فرمایا کہ احکام کی آمد کم ہوگئی ہے اس میں آپ کے رکھنے کے لئے گنجائش نہیں۔☆ آپ کی بیعت کا اندراج الحکم ۲۴ را گست ۱۹۰۲ء میں صفحہ ۱۶ کالم ۲ پر یوں موجود ہے۔”میاں برکت علی خاں صاحب گڑھ شنکر۔ہوشیار پور