اصحاب احمد (جلد 7) — Page 196
196 کے زمانہ میں ۱۹۰۴ء سے ۱۹۰۸ء تک ( جب کہ چوہدری برکت علی خان صاحب قادیان میں ہجرت کر کے مقیم تھے ) تین چار دفعہ قادیان آئے اور کئی کئی دن ٹھہرے۔حضور اقدس کے ساتھ مسجد مبارک میں نمازیں بھی پڑھیں۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو خوب غور سے دیکھا بھی۔مگر اس وقت بیعت نہیں کی والد صاحب کو یہ خیال غالب رہا کہ جب میرے دوست بھی بیعت کریں تو اکٹھے بیعت کریں چنانچہ بالآخر آپ نے اکیلے ہی خلافت ثانیہ میں بیعت کی۔انہوں نے اپنے دوست سے کہا کہ آپ کی بیعت کی خاطر میں نے بہت لمبا عرصہ انتظار میں گزارا۔مگر اب بیعت کرتا ہوں، آپ نمازوں کے پہلے بھی پابند تھے مگر بیعت کے بعد بھی آپ نے بالتزام مسجد میں آکر نماز تہجد پڑھنی شروع کر دی خواہ کوئی تکلیف بھی ہو مگر نماز تہجد ضرور مسجد ہی میں آکر ادا فرماتے۔آپ قادیان سے جانے کے قریباً ایک ماہ بعد گڑھ شنکر میں بیمار ہوئے اور چند دن کے اندر وفات پاگئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ کی وفات پر قریباً بیس سال کا عرصہ گذر چکا ہے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹ لے۔آمین۔والدہ صاحبہ ۱۹۰۵ء میں فوت ہوئیں۔احمدیت کا ان کو علم نہ تھا۔گڑھ شنکر میں طاعون کا زور محترم چوہدری صاحب تحریر فرماتے ہیں۔۱۸۹۸ء میں جب میں پرائمری کا سرٹیفکیٹ لے کر اپنے گھر گڑھ شنکر آیا تو اس کے چند دن بعد گڑھ شنکر کے ایک حصہ میں طاعون زور سے پھوٹ پڑی۔حکومت نے حسب معمول فیصلہ کیا کہ شہر خالی کر دیا جائے قریباً پونے تین سال کے بعد خاکسار مؤلف کو دو ہفتے کے لیئے پاسپورٹ ملا۔ایک روز کے لیئے ۲۰ مارچ ۱۹۶۰ء کور بوہ جانے اور سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور بزرگان کی زیارت و ملاقات کا موقع ملا۔چوہدری صاحب کی علالت کی خبر دیر سے آرہی تھی۔آپ کی ملاقات سے محرومی مجھے گوارا نہ تھی کہ خدا معلوم پھر ملاقات نصیب ہو یا نہ ہو۔خاکسار عشاء کے قریب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ایک ہفتہ سے آپ کی علالت شدت پکڑ چکی تھی۔ایسے انتھک کام کرنے والے بزرگ کو ایک مشت استخواں کی شکل میں فریش دیکھ کر شدید صدمہ ہوا۔اور مجھے نظر آیا کہ آپ مرض الموت میں ہیں اور صرف چند دن کے مہمان ہیں۔آپ کے ایک صاحبزادہ آپ کو ٹیکہ لگارہے تھے۔حضرت چوہدری صاحب کے ہوش وحواس درست تھے، آپ نہایت محبت اور گرم جوشی سے ملے۔خاکسار نے آپ سے برکت لینے اور آپ کو شادمانی پہنچانے کے لیئے عرض کیا کہ آپ کے حالات مرتب ہو چکے ہیں اور جلد ہفتم میں ہی طبع ہوں گے اور اس جلد کی کتابت ہورہی ہے۔آپ کی علالت کے مد نظر زیادہ بیٹھنا مناسب نہ تھا۔اس لیئے دعا کے لئے عرض کر کے اجازت لے کر چلا آیا۔رخصت ہوتے وقت اور پھر وفات کی اطلاع آنے پر میرے دل پر صدمہ کا جو کوہ گراں رگرا۔اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرما کر اعلی علیین میں جگہ عطا کرے اور ہمارا بھی ان جیسا انجام بخیر کرے۔آمین ثم آمین۔“