اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 188 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 188

188 جواب میں بتایا گیا کہ روحانی فیض کشف اور الہامات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔اس نے کہا کہ یہ الہام اور کشف وغیرہ تو مجھے پہلے ہی حاصل ہیں اس پر اسے کہا گیا کہ اگر تجھے یہ کمالات پہلے ہی حاصل ہیں تو پھر یہاں کس غرض سے آئے ہو۔اس نے جواباً پنجابی زبان میں آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ” بیعت نہ کریئے تو اتوں جُتیاں پینید یاں نے۔“ یعنی اگر اس امام کی بیعت نہ کی جائے تو عالم بالا سے جوتے پڑتے ہیں اور خدا کی درگاہ میں رسائی اور قبولیت نہیں ہوتی " (۱۱) سید عبدالحی صاحب عرب جو عرب سے آکر بہت دنوں تک قادیان میں بغرض تحقیق ٹھہرے رہے اور بعد میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی انہوں نے خاکسار سے اپنی بیعت کرنے کا حال اس طرح بیان کیا تھا۔فرمایا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فصیح و بلیغ تصانیف کو پڑھ کر اس بات کا دل ہی دل میں قائل ہو گیا تھا کہ ایسا کلام سوائے تائید الہی کے اور کوئی لکھ نہیں سکتا۔لیکن یہ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ یہ کلام خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے۔اگر چہ مجھے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور دیگر علماء اس بات کا یقین دلاتے اور شہادت دیتے تھے۔لیکن میرے شبہ کو ان کا بیان دور نہ کر سکا اور میں نے مختلف طریقوں سے اس بات کا ثبوت مہیا کرنا شروع کر دیا کہ آیا واقعی یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا ہی کلام ہے اور کسی دوسرے کی امداد اس میں شامل نہیں چنانچہ میں عربی میں بعض خطوط حضرت اقدس کی خدمت میں لکھ کر ان کے جواب عربی میں حاصل کرتا۔اور پھر اس عبارت کو غور سے پڑھتا اور اس کا مقابلہ حضور کی تصانیف سے کر کے معلوم کرتا تھا کہ یہ دونوں کلام ایک جیسے ہیں لیکن پھر بھی مجھے کچھ نہ کچھ ان میں فرق ہی نظر آتا جس کا جواب مجھے یہ دیا جاتا کہ حضرت اقدس کا عام کلام جو خطوں وغیرہ کے جواب میں تحریر ہوتا ہے اس میں معجزانہ رنگ اور خاص تائید الہی نہیں ہوسکتی چونکہ عربی تصانیف کو حضرت صاحب نے متحد یا نہ طور پر خدا تعالیٰ کے منشا اور حکم کے ماتحت اس کی خاص تائید سے لکھا ہے۔اس لئے ان کا رنگ جدا ہوتا ہے اور جدا ہونا چاہیے۔ورنہ عام لیاقت اور خاص تائید الہی میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔بہر حال میں قادیان میں اس بات کی تحقیقات کے واسطے ٹھہرارہا تا کہ میں بھی کوئی اس قسم کی تائید الہی کا وقت بچشم خود ملاحظہ کروں۔چنانچہ خطبہ کے نزول کا وقت آگیا اور میں نے اپنی آنکھوں سے اس الہامی اور مجزا نہ کلام کے نزول کو دیکھا اور خود کانوں سے سنا کہ بلا امداد غیرے کس طرح وہ انسان روز روشن میں تمام لوگوں کے سامنے ایسا فصیح و بلیغ کلام سنارہا ہے لہذا میں نے اس خطبہ کو سننے کے بعد شرح صدر سے بیعت کر لی۔