اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 180 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 180

180 بسر ہوا۔جو محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور اسی کی دین ہے۔اسی ملازمت کے دوران میں آپ کو کچھ وقت سرگودھا کے قریب ایک گاؤں چک ۴۶ شمالی میں بھی رہنے کا موقع ملا۔یہ گاؤں شہر سے کچھ فاصلے پر ہے۔آپ سائیکل پر دفتر آیا جایا کرتے تھے دفتر کے بعد آپ کا سارا وقت اس گاؤں کی جماعت کی بہبودی میں صرف ہوتا۔ان ایام میں مجھے بھی کچھ وقت آپ کی معیت میں رہنے کا اتفاق ہوا۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ آپ کے وجود سے اس جماعت میں ایک بڑی برکت نظر آتی تھی۔باوجود اقلیت میں ہونے کے اس جماعت کا سر گاؤں میں بلند تر تھا اور یہ جماعت قلیل عرصہ میں کافی ترقی کر گئی تھی۔چندوں میں آپ بہت ہی با قاعدہ تھے بلکہ کوئی تحریک مرکز ایسی نہ ہوتی جس میں آپ حصہ نہ لیتے بلکہ اپنے جملہ متعلقین کو اس کی تحریک فرماتے۔آج ۱۹ سالہ تحریک جدید میں اس عاجز گناہگار کا بھی نام آیا ہے۔مگر یہ سب دراصل والد صاحب محترم ہی کے طفیل ہے۔تحریک کے ابتدائی سالوں کا چندہ آپ ہی کے نیک جذبات اور تحریکات کا مرہونِ منت ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی بہتر جزا عطا فرمائے۔مہمان نوازی اور غربا پروری والد صاحب محترم کی زندگی بہت سادہ تھی اور غریبانہ رنگ میں ہی بسر ہوتی تھی مگر اس کے باوجود خدا تعالیٰ کی برکت ایسی تھی کہ کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوئی بلکہ تمام ضروریات اللہ تعالیٰ کے فضل سے باحسن رنگ پوری ہوتی رہتی تھیں اور بڑی عزت کے ساتھ گذر ہوئی۔مہمان نوازی آپ کی طبیعت کا خاصہ تھا مجھے اکثر دیکھنے کا اتفاق ہوا کہ مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد سے جب آپ گھر تشریف لاتے تو کوئی نہ کوئی مہمان بھی آپ کے ساتھ ہوتا بعض دفعہ تکلیف کے خیال سے مہمان معذرت پر آمادہ ہوتا تو آپ یہی کہتے کہ بھائی جو ماحضر ہوگا اس میں آپ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں ہم کوئی خاص تکلف نہیں کریں گے، پھر سونے کے لئے بعض دفعہ مہمان کو چار پائی اور بستر بھی دیا جاتا۔ایک دو دفعہ تو مجھے یاد پڑتا ہے ایسا بھی ہوا کہ مہمان صاحب رات کے وقت بستر بھی لے کر چلتے بنے۔مگر ایسے واقعات کے باوجود بھی آپ کے جذ بہ مہمان نوازی میں کوئی خاص فرق نہ آتا۔میں جب آپ کی زندگی پر غور کرتا ہوں تو ایسے افراد کی تعداد مجھے کافی نظر آتی تھی جن پر آپ نے بڑے احسانات کئے ان کو آپ نے گھر رکھ کر اور تمام اخراجات خود برداشت کر کے کتابت وغیرہ کا کام سکھایا یا اپنے محکمہ میں انہیں چھوٹی موٹی ملازمت دلوائی صرف یہی نہیں بلکہ ایسی متعدد مثالیں ہیں کہ بعضوں کے رشتے اور شادیاں خود کرائیں اور ان کی تمام تر ذمہ داریوں کو اپنے اوپر لیا اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ ان تمام نیکیوں کو جتانا