اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 177 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 177

177 شریعت حقهم لتحل است مفہوم اما بعد بیچاره معتقد تربات صوفیه این زمان از میں دولت محروم۔ذات مبارک کش مصداق ے حسن و خوبی دلبری بر تو تمام صحبت بعد از لقائے تو حرام حقیر را اگر خیال پائمال عیال و لحاظ بیماری والدہ ضعیفه خود عائد حال نشد ے گا ہے فرقت ایں آستاں مفیض نشاں برخود گوارا نکر دے ضرورت است وگر نہ خدائے می داند که ترک صحبت جاناں نہ اختیار من است خداوند بطفیل اخلاص این مرد بر راقم آثم ہم نصیبہ از اخلاص خاص عنایت کن - اگر در دعا خود نا خلصم تا نظر مرزا صاحب بریں رقیمہ انداز تا اخلاص از ذات واحد تو برائے حقیر طلب کنید۔بملا زمان سلطان که رساند این دعا را کہ زشکر پادشاہی زنظر مراں گدا را راقم الحروف قاضی ضیاءالدین عفی عنہ از کوٹ قاضی تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ محره ۷ فروری ۱۸۸۵ء بارے الحمد لله ثم الحمد للہ کہ حسب رضائے قلبی عاجز چند بار نظر حضرت ممدوح بریں رقیمه سوزناک افتاده چنانچہ از زبان بعض احبائے بوضوح پیوسته و این شمه از اخلاص که به نسبت شرائع احکام در دل خود مشاهده می رود برکت ہماں تو جہات عالیه است۔در مجالس متعددفرمودند که ما اور ا ا کثر یاد می داریم از دوست ماست۔بریں مثر ده گر جاں فشانم روا است که این مرده آسایش جان ماست (☆) الحمد للہ علی احسانہ (*) ڈائری نویسی اور تقریروں کے قلمبند کرنے کے شوق کے باعث حضرت اقدس کا ایک الہام آپ کے واسطے سے تذکرہ طبع ثانی میں محفوظ ہوا ہے (ص۷۸۲) علاوہ ازیں حضرت خلیفتہ اسیح اول اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ملفوظات کے محفوظ کرنے میں بھی شریک ہوئے (7) اصحاب احمد جلد ششم ص ۷، ۸ پر یہ تحریر وغیرہ درج کی گئی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح اول کے ملفوظات آپ کی طرف سے بدر مورخہ ۲۶/۹/۱۲۸/۱۲ میں اور حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ کے ملفوظات الفضل مورخ ۲۲/۵/۲۲٬۱۵/۵/۲۲،۴/۵/۲۲ میں شائع ہوئے ان میں حضور ایدہ تعالیٰ کی تین رؤیا بھی درج ہیں۔