اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 146 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 146

146 مولوی عبد اللہ صاحب ہوتا لومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بوتالوی رضی آپ کے سوانح کا اکثر حصہ خود آپ کا نوشتہ ہے۔جس کا ایک حصہ الفضل مورخہ ۱۴ رمئی ۱۹۵۲ء میں شائع ہو چکا ہے۔خاکسار مؤلف ممنون ہے کہ آپ کے صاحبزادہ اخویم مولوی عبدالرحمن صاحب انور (اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کے تعاون سے مجھے مواد حاصل ہوا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء شجرہ نسب آپ نے اپنے شجرہ نسب کے متعلق قوم ریحان کے ایک بڑے اجتماع کے موقعہ پر جس میں اس علاقہ کے سر آوردہ لوگ بھی شامل ہوئے تھے۔شجرہ نسب اس قوم کے جدی میراثی کی تصدیق سے حسب ذیل لکھا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکرم حافظ سعد اللہ صاحب جو بوتالہ میں اس خاندان کے مورث اعلیٰ تھے۔وہ سیاحت کے طریق پر ضلع جھنگ کے علاقہ کا لو وال ریحاناں اور چھنی محمد قاضی سے نکل کر ضلع گوجرانوالہ میں گئے اور وہاں ہی آباد ہو گئے۔اسی طرح شجرہ نسب حسب ذیل لکھا ہے۔محمد عبد اللہ ولد محمد الدین ولد صدرالدین ولد نیک بخت ولد عابد ولد اسلم ولد حافظ سعد اللہ ولد محمد یار ولد عیسی ولد قائم ولد جہانا ولد جھام ولد قاسم ولد دراج ولد مرید ولد شبدین ولدا ہر دلاالپاولد کا نگھی ولد سلار وولدر یحان ولد رتن پال ولد سانڈ رولد بھر تھے ولد گور اولد چت ولد کوٹ ولد بجن ولد کھوکھر ولد قطب شاہ۔حافظ سعد اللہ صاحب بوتالہ جھنڈا سنگھ والا میں حافظ سعد اللہ صاحب کی خانقاہ خاص شہرت رکھتی ہے اور بہت سے لوگ وہاں چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور اس قبرستان کے گھاس کو جانوروں کی بعض تکالیف کے موقعہ پر بطور علاج استعمال کرتے ہیں، ان کے تقویٰ اور طہارت کی وجہ سے سکھوں کی حکومت کے زمانہ میں قریبی گاؤں نت کے زمینداروں نے حافظ سعد اللہ صاحب کی اولاد کے گزارہ کے لئے کئی گھماؤں زمین اسی قبرستان کے نام لگا دی تھی۔جواب تک تقسیم ہو کر ان کی اولاد کے نام کا غذات سرکاری میں منتقل ہوتی جاتی ہے۔ان کے اعلیٰ مقام کا خیال کرتے ہوئے ہی۔۔۔۔والد ماجد نے اپنے ایک بچے کا نام سعد اللہ رکھا تھا جو طفولیت میں ہی وفات پا گیا اور آپ نے حافظ سعد اللہ صاحب کے حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے اپنے ایک بیٹے حافظ قدرت اللہ صاحب ( مجاہد انڈونیشیا و ہالینڈ ) کو قرآن کریم حفظ کرایا۔