اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 108 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 108

108 حضرت اقدس کو اطلاع دی گئی۔موسم جاڑے کا تھا ( کسولی والوں نے تار میں جواب دیا تھا کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا ) حضور نے فرمایا کہ اس بچے کی تیمارداری کرو۔میں خود بیمار ہوں۔خود آ کر تیمارداری نہیں کر سکتا۔میں دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ شفا بخشے گا۔تیمارداروں میں میں بھی تھا۔چند روز کے بعد وہ آہستہ آہستہ رو بصحت ہو گیا۔* (۱۵) حضور علیہ السلام بعد نماز مغرب مسجد مبارک کی چھت پر شہ نشین پر بیٹھا کرتے تھے اور عشاء تک خدام کو زیارت کا اور ہمیں مٹھی چاپی (جسم دبانے ) کا موقع دیا کرتے تھے (ایک دفعہ ) دوران گفتگو میں خاکسار نے عرض کیا کہ بعض لوگ کم فہمی سے حضور کی پیشگوئیوں کو حالات موجودہ پر مبنی ( خیال ) کرتے ہیں۔حالانکہ حضور کی دو عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں۔اول یہ کہ حضور نے ۳۲ سالہ نوجوان ہٹے کٹے پنڈت لیکھرام کی موت کی ایسی پیش گوئی فرمائی جو پنڈت (مذکور ) کی صحت جسمانی کے بالکل برعکس تھی۔لیکن مسٹر عبد اللہ آتھم و بچپن سالہ تھا اس کے متعلق (حضور ) نے فرمایا تھا کہ اگر چہ یہ ضعیف العمر ہے لیکن اس کے رجوع کرنے پر اس کی عمر لمبی کر دی جائے گی۔مگر لیکھر ام کے متعلق حضور نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ اگر چہ (وہ) جوان ، مضبوط اور ہر ایک قسم کی بیماری سے پاک ہے۔یہ بہر حال مرے گا اور کوئی اسے بچا نہیں سکے گا۔حضور نے فرمایا بے شک یہ ٹھیک ہے لیکن عبد اللہ آتھم نے مین جلسہ مباحثہ میں ہی رجوع کرتے ہوئے کانوں پر ہاتھ رکھا اور زبان منہ سے نکال کر کہا کہ میں آنحضرت کو دجال وغیرہ سخت الفاظ سے یاد نہیں کرتا۔(۱۶) ایک مرتبہ حضور حسب معمول صبح کو سیر کر کے واپس آرہے تھے تو میں نے عرض کی کہ کیا غیر احمدی کا فر ہیں حضور نے فرمایا ”کفر کفر میں فرق ہوتا ہے“ (۱۷) حضرت سید فضل شاہ صاحب ابتدائی زمانہ میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں اپنی ایک پرائیویٹ غرض کے لئے چھ ماہ تک ٹھہرے رہے۔حضور نے فرمایا تھا کہ چھ مہینے یہاں ٹھہریں۔جب چھ مہینے پورے ہو گئے تو سید صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ اب تو چھ ماہ ہو گئے۔میرا کام کب ہو گا۔حضور نے فرمایا ایک رات باقی ہے۔چه غم است چو شب درمیان است چنانچہ اسی روز شاہ صاحب کو (خواب میں ) ایک ہنڈیا دکھائی گئی جس میں سور کا گوشت تھا پس اس خواب کے بعد ان کا دل مطلوبہ رشتہ سے منحرف ہو گیا اور وہ ابتلا سے بچ گئے۔☆ احباب عبدالکریم صاحب کے سوانح اصحاب جلد اول میں ملاحظہ فرمائیں۔مؤلف روایت نمبر ۲۴ میں مزید تفصیل درج ہے۔