اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 82 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 82

82 نکاح ہوا تھا؟ اور بیوی ہم جنس ہوتی ہے کیا مریم خدا کی جنس سے ہے پھر بیٹا باپ کی صفات کا حامل ہوتا ہے۔خدا عالم الغیب ہے لیکن یہود اسکر یوطی کو جو بعد میں مرتد ہو گیا بہشت کی کنجیاں دینا اور انجیر کے پاس پھل کی خاطر جانا اور پھل نہ پا کر اس پر لعنت کرنا ظاہر کرتے ہیں وہ عالم الغیب نہ تھا۔وہ چھوٹی زمین اور سورج ہی پیدا کرتا اگر خدا کا بیٹا ہے تو بیٹیاں وغیرہ اقارب بھی ہونے چاہیں۔میرے پون در جن بچے ہیں لیکن کروڑوں سالوں میں خدا کا ایک ہی بیٹا ہوا۔بیٹا صلیب پر مر سکتا ہے تو باپ بھی مر جائے گا۔پادری صاحب نے کہا میں نے ایسی باتیں کبھی نہیں سنیں اور مبہوت ہو گئے۔ایک اور انگریز نے کہا کہ پادری آپ کے مقابلہ میں بے علم اور بچہ معلوم ہوتا ہے گو سفید ریش اور ایم اے ہے۔اسی طرح ایک پادری سے بحث ہوئی اور اس نے کہا کہ مسیح کی کیسی فیاضانہ تعلیم ہے کہ جو کچھ کوئی تم سے مانگے اس سے زیادہ دے دو میں نے کہا کہ یہ تو بالکل ناقص تعلیم ہے آپ مہربانی کر کے مجھے کوٹھی اور فلاں کوٹ وغیرہ دے دیں تو پادری نے کہا کہ آپ تو جنسی کرتے ہیں۔میں نے بتایا کہ قرآن مجید کی تعلیم اس بارہ میں بالکل کامل ہے۔جس میں بتایا ہے خدا کی راہ میں کیا خرچ کرو۔کتنا خرچ کرو کتنا گھر رکھ کس کو دو کس کو نہ دو کس طرح دو دکھا کر یا چھپا کر وغیرہ وغیرہ اس پر پادری دم بخود ہو گیا اور دبی زبان سے قرآن مجید کی کاملیت کا اقرار کیا۔تبلیغ کے ساتھ مخلصانہ دعائیں نتیجہ خیز ہوتی تھیں آپ بیان کرتے ہیں: پورٹ بلئیر کا واقعہ ہے کہ وہاں میرے جانے کے بعد ماسٹر محمد عبدالسبحان صاحب نے سب سے پہلے احمدیت قبول کی حکومت ہند نے فیصلہ کیا کہ کوہاٹ کے ماسٹر نور احمد وہاں سکول میں تھرڈ ماسٹر بنیں۔ماسٹر محمد عبدالسبحان صاحب کو صدمہ ہوا کہ مجھے مقامی باشندہ ہونے کی وجہ سے تھر ڈماسٹر نہیں بنایا گیا بلکہ ہندوستان سے منگوایا جارہا ہے۔میں نے ان کے لئے درد دل سے دعا کی اور انہیں بھی کہا کہ ہر روز بعد تہجد کم از کم ایک سو بار استغفار کیا کریں۔دو تین روز اس پر عمل کرنے پر ان کو ایک فرشتہ نے کہا کہ حکومت ہند کا حکم منسوخ کرنے کے لیئے ایک سو بار استغفار کافی نہیں۔اگر دوصد بار کرو تو منسوخ ہو جائے گا۔میں نے رویا سن کر کہا کہ اب یہ کام ضرور آپ کے حق میں سرانجام پا جائے گا چنانچہ وہ دوصد بار استغفار کرتے رہے۔دو تین ہفتے کے بعد ماسٹر نوراحمد صاحب کی طرف سے اطلاع آئی کہ میرے خانگی حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔اب میں پورٹ بلئیر نہیں آسکتا اس پر یہ رپورٹ کر دی گی کہ ماسٹر محمد عبدالسبحان صاحب قابل اور محنتی ہیں۔انہیں تھرڈ ماسٹر بنایا جائے۔چنانچہ کمشنر کیپٹن ڈگلس کی منظوری سے وہ اس آسامی پر متعین ہو گئے اور آج تک صحیح و سلامت موجود ہیں اور ربوہ چندہ بھجواتے رہتے ہیں۔(2) وہاں ماسٹر عبدالرحمن صاحب کیپٹن ڈگلس اور انگریز پادریوں کو تبلیغ کرتے رہتے تھے چنانچہ موصوف نے ی تفصیل بالفاظ دیگر ۱۹۴۹ء میں استغفار کی تلقین کرتے ہوئے سردار بشیر احمد صاحب کے نام مکتوب میں بھی آپ نے رقم فرمائی ہے۔