اصحاب احمد (جلد 7) — Page 81
81 بھی ضرورت ہے نہ کہ صرف سنی سنائی بات پر ایمان رکھنے سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے اہے۔اس کے بعد انہیں حضرت مسیح کی کشمیر میں قبر کے متعلق بتایا گیا اور انجیل کی رو سے ان کا صلیب پر نہ مرنا ثابت کیا گیا جسے سن کر دو انگریز صاحبان بولے کہ اصل بات یہ ہے ہم نے مذہبی تعلیم با قاعدہ نہیں پائی۔ماسٹر صاحب نے کہا کہ آپ لوگوں نے بائیبل کا حصہ عہد جدید سبقاً سبقاً پڑھا ہے۔اس کے سوا آپ اور کیا تعلیم پانا چاہتے ہیں۔اس کے بعد ماسٹر صاحب نے خدا تعالیٰ کے حی و قیوم اور زندہ خدا ہونے کے ثبوت میں ایک تقریر کی اور بتایا کہ دوائی وہی اچھی اور عمدہ ہوتی ہے جو انسان کے جسم اور روح کو مفید ہوا ور جو تجربہ سے ایسی ثابت ہو سکے۔اسی طرح سچا مذ ہب و ہی ہو سکتا ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا کر اس سے ہم کلام کرا دے نہ کہ صرف دعوی ہی دعوی کرے اس پر ایک انگریز صاحب بولے کہ کیا تم سے خدا بول سکتا ہے۔ماسٹر صاحب نے کہا ہاں کیوں نہیں بول سکتا ؟ کیا اس زمانہ میں نسل انسانی آج سے ۱۹ سو سال پہلے کی نسبت بہت کم مہذب اور کم شائستہ ہے؟ اس نے پوچھا خدا آپ سے کس طرح بولتا ہے۔اس کے متعلق ماسٹر صاحب نے اپنے چند ایسے واقعات سنائے جو انہیں بذریعہ رد یا قبل از وقت بتائے گئے تھے۔مثلاً بی اے کے امتحان کی تیاری کے وقت جو حساب کے پرچہ کا پہلا سوال بتایا گیا تھا اور وہی امتحان کے پرچے میں پہلا نکلا۔وہ سنایا۔یہ سن کر وہ حیران سا رہ گیا اور سب آئندہ پھر ملنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔(*) آپ کتاب ” میں مسلمان ہو گیا حصہ اول میں لکھتے ہیں کہ پورٹ بلیئر کی ملازمت کے دوران میں نکو بار بر میں میں نے ایک پادری سے گفتگو کے لئے خوشی سے ایک گھنٹہ وقت دیا۔پادری نے کہا کہ خدا کا احسان ہے کہ اس نے ہماری نجات کے لئے اپنا اکلوتا بیٹا کفارہ میں دے دیا۔میں نے کہا کہ سب سے پہلے آپ اس کا بیٹا ہونا ثابت کریں۔کہنے لگے بائیبل میں لکھا ہے۔میں نے کہا کہ فنا ہونے والی اشیاء مثلاً بکری ہولی ، وغیرہ کی نسل چلتی ہے جو جلد فنا نہیں ہوتی۔مثلاً سورج وغیرہ ان کی نسل نہیں ہے۔خدا کون سی قسم میں سے ہے اور اسے بیٹے کی کیا ضرورت ہے۔پادری نے کہا کہ ہے تو غیر قانونی لیکن اس کے مصلوب ہونے سے عدل بھی قائم رہا اور گناہوں کی سزا بھی ہوگئی۔میں نے کہا بے گناہ کو مارا اور گناہگاروں کو چھوڑ دیا۔نہ عدل نہ رحم بحال رہا۔یہ اندھیر نگری ہے اور ظلم ہے۔اس نے کہا کہ کتاب مقدس میں لکھا ہے کہ کنواری نے بچہ جنا اور وہ خدا کا بیٹا ہے۔میں نے کہا کہ اگر کتاب میں لکھا ہو کہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے ہیں تو کیا آپ تسلیم کر لیں گے۔کیا مریم خدا کی بیوی تھی۔کیا تو الفضل ۲۲ فروری ۱۹۱۶ء ( ص ۷ ) ۸ جنوری کے پرچے میں ص ۲ پر مذکورہ بالا چھٹی کے آنے پر اور آئندہ شائع کرنے کا ☆ ذکر مرقوم ہے۔