اصحاب احمد (جلد 7) — Page 79
79 وغیرہ چوری سے ہی لانا پڑے گا۔اپنے سامنے تو کوئی لے جانے نہیں دے گا۔چنانچہ یہ بات مجھے سمجھ آگئی اور فی الحقیقت اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ میری ربوبیت فرمائی۔بہت جائیداد دی ، اولاد دی اور قابل دی اور اولا د کو صاحب جائیداد اور اولاد بنایا ( بیٹے ملٹری میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور دو بیٹیاں لائق ڈاکٹر ہیں ) فالحمد لله علی ذالک۔حضرت ماسٹر صاحب تبلیغ کا جنون رکھنے والے بزرگ تھے۔دوران تبلیغ میں لوگوں نے کئی بار دفعہ آپ کو مارا پیٹا۔لیکن اس مرد مومن نے یہ سب کچھ برداشت کیا اور درماندہ ہوئے بغیر مسلسل فریضہ تبلیغ سرانجام دیتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ان کی اولاد اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا کرے۔آمین (۲) انڈیمان میں تبلیغ آپ کو انڈیمان میں اعلائے کلمتہ اللہ کا موقعہ یوں ملا کہ کیپٹن ڈگلس جزائر انڈیمان کے کمشنر مقرر ہوئے۔انہوں نے ۱۹۱۵ء میں سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کیا کہ گورنمنٹ سکول پورٹ بلیئر میں بطور ہیڈ ماسٹر کام کرنے کے لئے کسی مخلص قابل آدمی کو بھجوائیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی نظر انتخاب ماسٹر صاحب پر پڑی۔چنانچہ ماسٹر صاحب نے ارشاد پر سر تسلیم خم کیا۔ڈاکٹر نذیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ دو تین اگے پر دے والے منگوائے گئے۔مدرسہ تعلیم الاسلام میں تعطیل کر دی گئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، تمام مدرسین اور قادیان کے اکثر احباب بٹالہ کی طرف روانگی کے وقت ساتھ ساتھ تیز تیز چل رہے تھے اور ان کی معیت میں ماسٹر صاحب پیدل چل رہے تھے۔نہر پر ان سب نے الوداع کیا۔ایک عجیب جوش اور اخلاص سب کے چہروں پر نظر آتا تھا۔پورٹ بلئیر میں آپ نے سکول کا چارج لیا۔تبلیغ شروع ہوئی۔مسجد میں آپ سے مباحثہ ہوا۔مخالفت کا طوفان برپا ہوا۔چند ہفتوں میں ہی اللہ تعالیٰ نے سعید روحوں کو قبول احمدیت کی توفیق عطا فرمائی۔(*) کالا پانی سے خط :۔آپ کے پہلے خط سے ہی آپ کے تبلیغی جذبہ کی شدت کا علم ہوتا ہے۔چنانچہ مرقوم ہے: ناظرین کرام کو غالب یاد ہوگا کہ ماسٹر عبد الرحمن صاحب نومسلم بی اے باجازت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جزیرہ پورٹ بلئیر میں ایک سکول کی ہیڈ ماسٹری کے لئے گئے ہیں۔اصل میں ان کے وہاں بھیجنے کی غرض و غایت تبلیغ احمدیت ہے۔چنانچہ انہوں نے اس فرض کو سرانجام دینا شروع کر دیا ہے۔وہ اپنے تازہ خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہاں کسی قسم کا تہوار یا میلہ نہیں ہوتا۔ہائی اسکول کے تقسیم انعامات کے موقع پر آزاد شدہ مجرم الفضل ۲۴ نومبر ۱۹۱۵ء میں زیر مدينة الميسح مرقوم ہے کہ ماسٹر صاحب کو قریب دوصد روپیہ پر بیرون ہند ہیڈ ماسٹری کی اسامی ملی ہے۔ہفتہ عشرہ تک روانگی ہوگی۔