اصحاب احمد (جلد 7) — Page 70
70 دیکھتے کوئی مسکرا دیتا۔کوئی حیران و ششدر رہ جاتا۔جم غفیر ہمارے گرد جمع ہو جاتا۔بعض دفعہ سکھ ان عبارتوں کو آنحضرت ﷺ اور پیشتر کے انبیاء کی طرز زندگی اور خوراک پوشاک سادہ ہوا کرتی تھی اکثر نبی جواور کھجور پر گزارہ کیا کرتے تھے۔مگر زمانہ مستقبل میں آنے والے رسولوں کو فرمایا اَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ۔۔۔عليمٌ (66) اے آنے والے۔رسولو! تمہارے زمانے میں بے شمار پیسٹری اور مٹھائیاں اور نفیس، اکل وشرب کی تیار ہوں گی پر تم نے ان میں سے پاک اور ستھری چیزیں ہی کھایا کرنا جو کچھ تم کرو گے میں خوب جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ زمانہ مستقبل میں گونا گوں مٹھائیاں اور ٹوسٹ تیار ہوں گے۔یہ حکم حضور کو حضرت آدم ، نوح “ ، ابراہیم ، یوسف اور اور لیس کے لئے نہیں دیا گیا تھا کہ قبروں سے اٹھو اور نہا دھوکر پاک طیب چیزیں کھایا کرو۔کیونکہ وہ ہزاروں سال سے بہشت میں مزے کر رہے ہیں یہ حکم آنے والے امتی نبیوں کے متعلق آنحضرت میر نازل ہوا تھا۔قرآن شریف میں دین اسلام مکمل ہوا جیسے دین ابراہیم الحق" پر مکمل ہوا أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (67) آیا ہے یعنی اللہ نے دین اسلام مکمل کر دیا تھا اسی طرح سورۃ یوسف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى ال يَعْقُوبَ كَمَا أَتَمَّهَا عَلَى اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَق - (88) اللہ تعالیٰ تیرے پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور آل یعقوب پر جیسا کہ اس نے پوری کی تھی تیرے والدین پر پہلے سے اور ابراہیم اور احق" پر بھی نعمت پوری کی تھی۔شریعت اور نعمت یا نبوت الحق ، ابراہیم اور موٹی پر مکمل ہوئی تھی پھر بھی آل ابراہیم اور قوم ابراہیم میں بے شمار نبی آتے رہے۔اسی طرح شریعت اسلام کے مکمل ہونے پر بھی آنحضرت ﷺ کی ماتحتی میں امتی نبی صدیق شہید آنے مقرر کر دئے لپس ہم جائز طور پر کہہ سکتے ہیں کہ محمد زندہ نبیوں کا بادشاہ ہے بھو کے بادشاہ نہیں ہیں اگر ہسپتال مکمل ہو جائے تو پھر بھی ڈاکٹروں انسپکٹروں کی ضرورت ہوا کرتی ہے؟ ورنہ بیار مہلک ادویہ پی پی کر مر جائیں گے۔چودہ سو سال تک امت محمدیہ کی نگرانی کے لئے انسپکٹر اور مجدد آتے رہے۔اب جب کہ مسلمان مسلمان ہی نہ رہے اور لاکھوں عیسی کو خدا کی طرح غیر فانی مان کر عیسائی ہو گئے تو ضرور تھا کہ قرآنی وعدے کے مطابق مسیح موعود آتا جو پارہ ۵ رکوع ۹ کی رُو سے امتی نبی ہے۔حصول خیر و دفع شر ہم امتی نبیوں ،صدیقوں وغیر ہم کے پاک وجودوں کے انکار اور کفر سے خدا کی پناہ مانگتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ مسلمان نماز کے حقیقی معنوں سے بے خبر ہو کر محرومی کے شکار اور عذاب پر عذاب کے سزا وار ہو رہے ہیں۔ان میں بے حد اختلاف ہو چکا ہے جس سے ان کی سیاسی اور ایمانی طاقت بھی یہاں تک کمزور ہوگئی ہے کہ اسلامی ملک افغانستان بھی ہندوستان سے رشوت لے کر پاکستان پر حملہ کر رہا ہے۔