اصحاب احمد (جلد 7) — Page 63
63 پیغام دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ کے مسلمان ہونے کی جس صداقت کا اظہار فرمایا ہے اسے وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے رہیں۔مجھے اس صداقت کے اظہار پر جو سزا بھی دی جائے اسے بخوشی برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔سزا کا حکم سنانے کے معا بعد فیصلے کی نقل کے لئے ارجنٹ درخواست دی گئی لیکن مجسٹریٹ نے کہا کہ عدالت کا وقت ختم ہو چکا ہے، اس لئے نقل نہ مل سکی۔سنا گیا ہے کہ ۱۳ جنوری کو کچہری میں تعطیل ہے اس لئے آج اور کل جناب ماسٹر صاحب کی ضمانت کے متعلق کوئی کارروائی نہ ہو سکے گی۔پرسوں نقل فیصلہ اور ضمانت کے لئے کوشش کی جائے گی۔اس صداقت اور حقیقت کی اشاعت پر کہ حضرت بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ مسلمان تھے اور اسلام کے شیدائی۔جناب ماسٹر صاحب موصوف کو جو سزا دی گئی ہے اس پر ہم انہیں مبارک باد کہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کی اس قربانی کو قبول کرے اور بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ کا جو حقیقی مذہب اسلام تھا اس کی صداقت بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے اپنے آپ کو منسوب کرنے والوں پر ظاہر کر دے۔حضرت مسیح موعود کا الہام ہے: صادق آن باشد که ایام گزارد اور الہام خفی کے طور پر آپ کا دل اس مضمون سے بھر گیا۔(48) با محبت باوفا (49) گر قضا را عاشقه گردد اسیر بوسد آں زنجیر را کز آشنا یعنی خدا کی نظر میں صادق وہ شخص ہوتا ہے جو بلا کے دنوں کو محبت اور وفا کے ساتھ گزارتا ہے۔اگر اتفاقاً کوئی عاشق قید میں پڑ جائے تو اس زنجیر کو چومتا ہے جس کا سبب آشنا ہوا۔سوحضرت ماسٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ۶۵ سال کی عمر میں بڑھاپے میں ایسی قربانی اور محبت و وفا اور استقامت کا نمونہ دکھانے کی توفیق عطا فرمائی و ذلك فضل الله يوتيه من يشاء - ماسٹر صاحب نے قید کی سزا سننے پر جس عزم و ثبات اور حقیقی مسرت اور بشاشت مومنانہ کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اس صداقت کے اظہار کے باعث مجھے جو بھی سزادی جائے اسے بخوشی برداشت کروں گا اس پر اساتذہ و طلباء مدرسہ احمدیہ قادیان نے نہایت محبت سے ایک قرارداد کے ذریعہ سے ہدیہ تبریک پیش کیا۔(50)