اصحاب احمد (جلد 7) — Page 61
61 (43) شروع ہونے پر الفضل کے رپورٹر کو بھی ٹھہرنے کی اجازت نہ دی اور کہا کہ الفضل کی رپورٹیں غلط ہوتی ہیں۔) پہلی پیشی پر مجسٹریٹ نے شیخ چراغ دین صاحب کی جرح کے دوران میں کہا کہ اگر محمد (ﷺ) کو کوئی کہہ دے کہ وہ Infidel ( بے دین ، معاذ اللہ ) تھے تو کیا مسلمانوں کے دل اس سے نہ دیکھیں گے۔شیخ صاحب نے بتایا کہ باوا نانک کے متعلق ملزم نے حضرت کا لفظ لکھا ہے گویا وہ دینی لحاظ سے واجب الاحترام ہیں اس لئے یہ مثال درست نہیں۔مجسٹریٹ نے دوسری بار بھی ایسا ہی کہا۔اس پر شیخ صاحب نے کہا کہ مثال کے الفاظ نہایت نا واجب اور دل آزار ہیں اور شرطیہ طور پر بھی اتنے مسلمانوں کی موجودگی میں استعمال نہیں کرنے چاہیں۔الفضل نے توجہ دلائی کہ بلا وجہ دل آزاری کی گئی ہے، ہم صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔اس امر کی تحقیق ہونی چاہیے۔عدالتوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تمام پیشواؤں کے لئے عزت کے الفاظ استعمال کریں۔(44) مجسٹریٹ کی اس نازیبا حرکت پر مسلمانان گورداسپور اور جماعت ہائے احمدیہ نے جلسے منعقد کر کے اور اسلامی اخبارات مثلاً ہفت روزہ اصلاح ( سری نگر ) اخبار پاسبان، روز نامہ انقلاب لا ہور اور روز نامہ زمیندار لاہور نے احتجاج کئے ، قادیان میں زیر صدارت شیخ محمود احمد صاحب عرفانی صدر نیشنل کور ایک احتجاجی جلسہ ہوا۔صاحب صدر کے علاوہ مولانا عبد الرحیم صاحب نیر و دیگر مقررین نے اس بارہ میں اظہار خیالات کیا۔ابتداء میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی نظم علیک الصلوۃ علیک السلام پڑھی گئی۔سامعین میں بہت جوش تھا۔جس کے باعث آخری بند پڑھنے میں تمام مجمع بھی شریک ہو گیا۔بٹالہ کے دومسلمان وکلاء نے مجسٹریٹ مذکور اور حکومت پنجاب کو پانچ پانچ سو روپے کے ہر جانے کے نوٹس دئے۔الفضل نے کئی بار حکومت کو توجہ دلائی اور افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے اسلامی پریس کے احتجاج کو کوئی وقعت نہیں دی اور اس امر پر بھی افسوس کیا کہ احراریوں نے مجسٹریٹ کی حمایت میں قرار داد میں منظور کر کے ملاپ اور پرتاپ ہند و اخبارات کو بھجوائی ہیں کیوں کہ مسلمان اخبارات نے انہیں منہ نہیں لگایا۔قبل ازیں ایک احراری وکیل اس احتجاج کی ہم نوائی کر چکا ہے (45) غدار فطرت لوگ بھی ہوتے ہیں ایسے کسی شخص کی طرف ایک گم نام مضمون مجسٹریٹ کی ہمدردی میں ایک اخبار میں شائع کیا گیا کہ حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں نے کچھ عرصے سے مجسٹریٹ کے خلاف عجیب و غریب افسانے شروع کر رکھے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ضلع میں کوئی ایسا افسر رہے جو ان کی مرضی کے مطابق نہ ہو اور عدالت میں شیخ چراغ دین صاحب کے احتجاج کا باعث یہ امر تھا کہ وہ حضرت امام جماعت احمدیہ کے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں گویا شیخ صاحب کی آنحضرت ﷺ سے عقیدت اس احتجاج کا محرک تھی ، اس کمینے الزام کی