اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 51 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 51

51 چنانچہ دو چار روز میں آنکھیں درست ہو گئیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آج ۴۳ سال ہو گئے میری آنکھیں کبھی دیکھنے نہیں آئیں۔بڑا مطالعہ کیا ہزار ہزار پندرہ پندرہ سو صفحات کی کتابیں متواتر پڑھیں۔بی اے پاس کیا آنکھیں خوب استعمال کیں حتی کہ آنکھیں تھک جاتی رہیں مگر دکھنے کبھی نہیں آئیں۔فالحمد للہ (*) چنانچہ آپ نے سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتب لکھیں جو مسلمانوں سکھوں آریوں عیسائیوں اور غیر مبایعین کے اعتراضات و شکوک دور کرنے اور ان میں تبلیغ کرنے کے لئے بہت مفید ثابت ہوئیں اور بزرگان سلسلہ سے بھی انہوں نے خراج تحسین حاصل کیا، ان کتب میں جا بجا لطیف نکات کے انمول موتی بکھرے پڑے ہیں۔الزام خصم کے طور پر بھی عجیب دلائل سے بھر پور ہیں۔مثلاً لکھتے ہیں کہ مردہ کی تدفین فطری امر ہے مثلاً مرے ہوئے کوے کو دوسرے کوے دفن کر دیتے ہیں لیکن پنڈت لیکھرام نے لکھا ہے کہ تدفین کرنا چونکہ کوے کی اقتدا کرنا ہے اس لئے یہ مکروہ امر قابل عمل نہیں۔ماسٹر صاحب کہتے ہیں کہ پنڈت جی منہ کے راستے بھوجن نہ کھاتے کیونکہ منہ سے کھانا کوے کی اقتدا کرنا ہے۔5 اسی طرح آپ لکھتے ہیں کہ دیانند جی نے لکھا ہے کہ روحیں مرنے کے بعد ہوا میں مل جاتی ہیں پھر گھاس پتوں۔اناج اور پانی پر گرتی ہیں اور جب عورت اور مردان اشیاء کو کھاتے ہیں تو ان کے گھر وہ روحیں دوبارہ جنم لیتی ہیں۔ماسٹر صاحب لکھتے ہیں کہ دیانند جی کے جسم میں بھی ارواح داخل ہوئی ہوں گی اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے جسم میں ان اشیاء سے ارواح داخل نہ ہوئی تھیں۔سود یا نند جی کے عمر بھر شادی نہ کرنے کے باعث ان ارواح نے جنم نہ لیا ور نہ دس رشی اور پیدا ہو جاتے۔ان سے محرومی آریہ ورت کے لئے رونے کا مقام ہے۔(6) (35) (36) ایک مقام پر آپ لکھتے ہیں کہ ایک آریہ ڈاکٹر نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ فلاں چیز کھانے سے آپ بیمار ہوئے ہیں۔ماسٹر صاحب نے کہا کہ کیا پچھلے جسم کی تو سزا نہیں ملی اور پھر بتایا کہ بہتر ہے کہ آپ ڈاکٹری پیشہ ترک کر دیں۔پر میشر نے تو ہر حالت میں سزا دینی ہے لیکن آپ اس میں مزاحم ہوتے ہیں اس کی سزا آپ کو ملے گی۔آپ کے عقیدہ تناسخ کے مطابق چاہیے کہ تمام ہسپتال بند کر دئے جائیں۔سزا بیماری کی صورت میں تو بہر حال (37) پوری ہو کر رہے گی۔آپ کی جن کتب کا علم ہو سکا ہے ان کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے بعض کتب کی تصنیف یا ترجمہ آپ نے عام افادہ کی خاطر بھی کیا ہے۔بعض کتب کی قیمتیں مختلف شائع ہوئی ہیں جو غالبا الگ الگ بار طبع کے لحاظ سے ہوں گی۔یہ ممکن ہے کہ میں نے جس کتاب کو طبع اول سمجھا ہو وہ طبع اول نہ ہو۔(۱ تا ۵) مڈل اور میٹرک کے طلباء کے لئے گریمر ، مضمون نویسی ضرب الامثال کے بارے میں ترجمہ یہ روایت ماسٹر صاحب سے سردار بشارت احمد صاحب نے لکھی تھی۔