اصحاب احمد (جلد 7) — Page 44
44 سکھاؤ تا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خاندان کو با برکت کر دے۔۔۔۔خدا تعالیٰ کے لئے اور اپنے ذاتی آرام اور خوش حالی کے لئے دین کی خدمت مال اور جان اور جسم سے کرو آپ نے اکتوبر ۱۹۵۰ء میں ایک مکتوب میں نصائح تحریر کیں اور ایک بچہ سے کہا کہ نقول کر کے تمام بچوں کو بھیج دے تا کہ میری ذمہ داری بحیثیت والد کے ادا ہو جائے اور میں دنیا و آخرت میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جاؤں۔میں نے ۱۸۹۰ ء میں بیعت کی اور ۱۹۰۷ ء میں وصیت کی تہجد التزام سے پڑھتا ہوں۔۔۔اس میں آپ ادعیہ ماثورہ کا ذکر کرتے ہیں جو گھر اور مسجد سے نکلنے اور داخل ہونے اور نماز کے بعد سجدہ میں۔بین السجدتین، کسی بستی میں داخل ہوتے ، وقت کسی مصیبت یا مریض کو دیکھ کر سوتے وقت ، نیند سے بیدار ہونے پر صبح کے وقت اور برائے استخارہ آپ پڑھتے تھے اور ہر ایک کو پڑھنی چاہیے۔ڈاکٹر نذیر احمد کی ولادت اور ان کا عدن اور حبشہ وغیرہ میں تبلیغ کرنا: ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کے تبلیغی حالات یہاں اختصار ادرج کئے جاتے ہیں۔ایک اس لئے کہ الولد سر لابیہ کے مطابق اس سے حضرت ماسٹر صاحب کی تربیت کا علم ہوتا ہے۔دوسرے ڈاکٹر صاحب کی ولادت کے متعلق ایک روایت کی تعبیر کے لئے ان حالات کا یہاں ذکر مناسب حال ہے۔حضرت ماسٹر صاحب تحریر کرتے ہیں: بشارت احمد کی وفات کے بعد اس کی والدہ صاحبہ نے ایک خواب دیکھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی اور کچھ چندہ دیا۔خواب یہ تھی کہ کوئی زور سے پکارتا ہے کہ پہلے بچے کی وفات پر غم نہ کر تمہیں خدا تعالیٰ دوسرا لڑکا دے گا اس کا نام نذیر احمد رکھنا۔حضور نے فرمایا کہ جب لڑکا پیدا ہو تو میرے پاس لانا چنانچہ ۲ راکتو بر ۱۹۰۶ء کولٹر کا ( ڈاکٹر نذیر احمد پیدا ہوا وہ حضور کی خدمت میں لے گئیں اور خواب بھی سنائی۔حضور نے لڑکے کو گود میں لیا اور پیار کیا اور فرمایا ایک نذیر تو دنیا سے سنبھالا نہیں جاتا ایک اور نذیر آ گیا۔( قلمی مسودہ) ڈاکٹر نذیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں: اگست ۱۹۳۵ء کی بات ہے سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہتعالیٰ نے مجھے حبشہ اب سینی) میں جا کر کام کرنے کے لئے فرمایا اور فرمایا کہ وہاں اطالیہ اور حبشہ میں جنگ شروع ہے آپ نے ملٹری میں ڈاکٹر کا کام کیا ہے حبشہ میں ڈاکٹروں کی ضرورت ہوگی وہ آپ کو کام پر لگالیں گے۔چنانچہ میں فرانسیسی سمالی لینڈ کی بندرگاہ جبوتی سے ادیس ابابا پہنچا۔اس زمانہ میں حبشہ بالکل ابتدائی دور تہذیب میں تھا۔شہنشاہ حبشہ اور اعلیٰ طبقے کے لوگ اپنی زبان تو لکھ پڑھ سکتے تھے لیکن غیر ملکی زبانوں میں سے صرف فرانسیسی زبان سے واقف تھے۔“