اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 35 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 35

35 حضرت مولوی نورالدین صاحب کی فدائیت اور توکل علی اللہ : حضرت مولوی نورالدین صاحب کی فدائیت اور جذبہ اطاعت کے متعلق ماسٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۸۹۱ء کے قریب حضرت اقدس اور مولوی نذیر حسین (صاحب) وغیرہ کے درمیان مباحثہ ہونے والا تھا۔دہلی سے حضور نے بذریعہ تار حضرت مولوی نورالدین صاحب کو دہلی بلایا * اس وقت حضرت مولوی صاحب مطب میں نسخے لکھ رہے تھے تار آئی تو پوچھا کہ کیا لکھا ہے۔بتایا گیا کہ آپ کو د بلی فوراً آنے کا حکم حضرت مسیح موعود کی طرف سے ہے۔حضرت حکیم الامت نے وہیں نسخہ اور قلم فرش پر رکھ دیا اور جوتی پہن کر یکہ کے اڈہ کی طرف پیادہ چل پڑے۔قادیان کی جانب غرب جب خاکروبوں کے محلہ (جو بعد میں دارالصحت کہلاتا تھا ) کے قریب پہنچے تو ایک یکہ بان بٹالہ سے آکر حضرت مولوی صاحب کو کہتا ہے کہ میں تحصیلدارصاحب بٹالہ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہوں۔معلوم ہوا کہ تحصیلدار کی بیوی سخت بیمار ہے اور حضرت مولوی صاحب کو بلایا ہے۔آپ بٹالہ پہنچے اور تحصیلدار سے کہا کہ میں نے اس گاڑی پر دہلی جانا ہے۔تحصیلدار نے کہا کہ آپ میری بیوی کا علاج کریں نسخہ دیں جب تک آپ نہ آئیں گے گاڑی نہیں چلے گی۔چنانچہ آپ نے علاج کا انتظام کیا اور تحصیلدار صاحب آپ کو ساتھ لے کر ریلوے سٹیشن بٹالہ پر پہنچے ، اور دہلی کا ٹکٹ دے کر اور یک صدر و پیر نذرکر کے آپ کو گاڑی میں بٹھا دیا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب روانہ ہو گئے ( اور دہلی پہنچ کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔) حضرت مولوی صاحب نے گھر سے نہ کوئی خرج منگوایا نہ مشورہ ( کیا ) اور (نہ ) اطلاع کی مطب سے ہی دہلی کو روانہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی قربانی دیکھ کر وہ سلوک کیا کہ باید و شاید “ اسی طرح ماسٹر صاحب بیان کرتے ہیں : ابتدائی زمانہ میں ( قادیان میں ) نہ کوئی ہسپتال تھانہ سیونگ بینک ڈاک خانہ کا۔اکثر لوگ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے پاس اپناروپیہ امانت جمع کر دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ ایک مہمان نے کہا کہ میں نے ۴ بجے شام کی گاڑی پر وطن کو جانا ہے میرا روپیہ دیدیں۔مجھے معلوم تھا کہ اس وقت آپ کے گھر میں روپیہ موجود نہیں۔کیونکہ اکثر میں ہی ( گھر کے کام کاج کرتا اور ) سودا لایا کرتا تھا بلکہ برسات میں کو ٹھے پر مٹی بھی ڈالا کرتا تھا۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی صدری کی جیب میں سے دو روپے نکال کر مجھے دئے اور فرمایا کہ فلاں بیوہ کے ک ماسٹر صاحب کو یہاں سہو ہوا ہے ۱۸۹۱ء کے مباحثہ کے موقعہ پر حضرت مولوی صاحب دہلی نہیں گئے تھے۔دوسرے اس روایت کی اندرونی شہادت بھی اس امر کی تردید کرتی ہے کیوں کہ قادیان میں مطب حضرت مولوی صاحب نے ہجرت کر آنے کے بعد شروع کیا اور ہجرت ۱۸۹۳ء میں کی تھی۔حضرت مولوی صاحب کو یہ تار ۲۸ اکتو بر ۱۹۰۵ء کوموصول ہوا تھا اور آپ اگلے روز دہلی پہنچ گئے تھے (ب) اس روایت میں اور انگلی روایت میں خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار مولف کی طرف سے ہیں۔