اصحاب احمد (جلد 7) — Page 33
33 دوستوں کو مشکلات کے حل کے لئے یہ واقعہ سنایا کرتے اور فرماتے کہ تم خدا کا کام ( تبلیغ ) کرو تو خدا تمہارا کام خود سنبھال لے گا۔اہلیہ اول کی وفات: آپ کی اہلیہ اول محترمہ غلام فاطمہ صاحب کو سما رہے ہونے کا بلکہ دارا صبح میں قیام کرنے اور حضرت اقدس اور حضرت ام المومنین کی خدمت کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔آپ کو کثرت سے کچی خوا ہیں آتی تھیں۔آپ ۹ جون ۱۹۴۷ء کو قادیان میں ساٹھ سال کی عمر میں عالم جادوانی کو سدھار گئیں۔مرحومہ کوسلسلے کے لئے مالی قربانی کرنے کا موقع ملا۔چنانچہ منارۃ مسیح کے لئے چندہ دینے کے باعث آپ کا نام اس پر ۲۳۲ نمبر پر کندہ ہے۔آپ ابتدائی موصیوں میں تھیں آپ کا وصیت نمبر ۱۶۸ ہے۔آپ کو تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔آپ کا نام صفحہ ۴۷۷ پر درج ہے۔الفضل مورخہار جون ۱۹۴۷ء میں زیرہ مدینہ ایچ آپ کی وفات اور آپ کے صحابیہ ہونے کا ذکر کر کے یہ مرقوم ہے کہ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور آپ بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔دوسری اور تیسری شادی آپ نے ۱۹۲۵ء میں دوسری شادی کا ارادہ کیا اور دعا و استخارہ کیا کہ اگر میری عمر ہو تو میں شادی کروا اور تکلیف مالا بطاق نہ سہیڑ لوں۔خواب میں لکھا ہوا دکھایا گیا کہ اتنے سال اور اتنے مہینے عمر کے باقی ہیں۔چنانچہ آپ نے محترمہ فضل بی بی صاحبہ سے شادی کر لی۔وہ ۲۴ جون ۱۹۳۰ء کو اس دار فانی سے عالم جادوانی کو سدھار گئیں اور بہشتی مقبرہ قادیان ( قطعہ ۳ حصہ ۱۷) میں مدفون ہیں۔اَللَّهُمَّ اغفر لها وارحمها - مرحومہ کی یادگار ایک بچی ہے۔آپ نے تیسری شادی کرنا چاہی لیکن اس کی کوئی صورت معلوم نہ ہوتی تھی۔بہتیری مشکلات حائل تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق استغفار کیا۔استغفار بھی اکہتر ہزار بار کیا اور جناب الہی میں عرض کی کہ میں آہ وزاری اور منتیں کر کے اُکتا گیا ہوں اگر یہ کام نہیں ہوسکتا تو میری توجہ پھیر دے۔اللہ تعالیٰ نے غیب سے سامان پیدا کر دئے اور چند روز میں ہی انتظام ہو گیا اور آپ کی تیسری شادی محترمہ مرجان صاحبہ سے ( جو بعد میں ممتاز بیگم کے نام سے موسوم ہوئیں ) ۱۹۳۴ء میں ہوئی۔وہ بقید حیات ہیں اور ان کے بطن سے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔آپ نے اپنی بیویوں میں انصاف اور عدل کرنے کی کوشش کی۔یہی وجہ ہے کہ باوجو یکہ پہلی اہلیہ کی