اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 193 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 193

193 مکرم مولوی صاحب کی وفات کے بعد احمدیوں اور ان سے تعلقات رکھنے والوں کے ۲۵۰ کے قریب خطوط موصول ہوئے۔بہت سے غیر احمدی بھی تعزیت کیلئے ربوہ تشریف لائے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاکرام الفضل میں مرقوم ہے کہ: آج ٹھیک چھ بجے صبح سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ الہ تعالی نے حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحب ریحان بوتالوی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔حضور نے اپنی علالت کے باوجود لمبی دعا فرمائی۔نماز جنازہ کے بعد حضرت مولوی صاحب کی نعش کو جماعت کے مجمع کثیر نے کندھا دیتے ہوئے بہشتی مقبرہ ربوہ میں پہنچایا۔دردمند دلوں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انہیں سپردخاک کر دیا گیا۔قبر کی تکمیل کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے آخری دعا فرمائی۔حضرت مولوی صاحب مرحوم کو صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے لئے بہشتی مقبرہ کے مخصوص قطعہ میں جگہ دی گئی اور اس قطعہ میں آپ کی پہلی قبر ہے۔یہ قبر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار کے قریب ہے۔( آپ ) ۲۰ رمئی ۱۸۸۱ ء کو پیدا ہوئے تھے اور ۱۷ فروری ۱۹۰۱ء کو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی تھی اور کل مورخہ ۳ رمئی بروز ہفتہ نماز فجر سے پہلے اے سال کی عمر میں آپ نے جان آفریں کو جان سونپ دی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔حضرت مولوی صاحب کی وفات نا گہانی طور پر حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پرضر بتہ الشمس کا حملہ ہوا ہے اور آپ نے اسے سرسری سمجھتے ہوئے اس کی زیادہ پروانہ کی حتی کہ اپنے عزیزوں اور بچوں تک کو اپنی تکلیف سے آگاہ نہ کیا۔۲ مئی کی رات کو افاقہ محسوس کرتے ہوئے معمولی کھانے کے بعد سو گئے۔مگر یہ نیند آخری نیند ثابت ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔تھوڑی ہی دیر میں احباب کا جم غفیر جمع ہو گیا اور ہر شخص حضرت مولوی صاحب کے عمدہ اخلاق کا ثنا خواں تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سے رشتہ داروں کے آنے تک نعش کو رکھنے کے بارے میں مشورہ کیا گیا غرض ( جنازہ میں ) حضرت مولوی صاحب کے جملہ قریبی رشتہ دار موجود تھے صرف مجاہد بھائی اور حضرت مولوی صاحب کے منجھلے بیٹے عزیزم حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ انڈونیشیا یہاں موجود نہ تھے انہیں وکالت تبشیر نے جکارتہ میں بذریعہ تا راس سانحہ سے اطلاع کر دی ہے۔(27)