اصحاب احمد (جلد 7) — Page 178
178 مرکز سلسلہ میں تعمیر مکان مرکز سلسلہ کی آبادی اور وہاں ہجرت کرنے کے پروگرام کے ماتحت آپ نے عزیزان واقارب کو تحریک کر کے اکٹھیز مین لے کر اس میں ۱۹۲۵ء میں مکان تعمیر کیا اور اس کا نام برکات منزل رکھا۔یہ محلہ بعد میں دار البرکات کے نام سے موسوم ہوا اور پاکستان میں آنے کے بعد بھی ربوہ میں اپنے عزیز ان کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور محلہ دارالرحمت میں اپنے قریب نو رشتہ داروں کو اکٹھا کر کے زمین کے حاصل کرنے میں امداد کی اور پھر اپنا مکان بھی تعمیر کیا۔تاثرات حافظ صاحب: آپ کے صاحبزادہ حافظ قدرت اللہ صاحب مجاہد ہالینڈ کے تاثرات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔آپ بیان کرتے ہیں۔والد صاحب محترم کے وہ آخری الفاظ جو انہوں نے ۵۲ ء میں میرے انڈونیشیا روانہ ہوتے وقت فرمائے مجھے کبھی نہ بھولیں گے۔آپ نے فرمایا کہ اب تم اپنے اہل وعیال کے ساتھ تبلیغ کے لئے ہم سے جدا ہو رہے ہو اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو ( آمین ) پھر فرمایا کہ تم جب یورپ گئے تھے تو تمہارے اہل وعیال پیچھے ہمارے پاس بطور امانت تھے ہم سے جہاں تک ہو سکا ہم نے ان کی نگہداشت کی اب تم ان بچوں کو اپنے ساتھ لئے جاتے ہو، زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔یہ بھید اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے ممکن ہے ہم ایک دوسرے سے پھر نہ مل سکیں اور سیہ ملاقات ہماری آخری ملاقات ہو۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا ہر آن نگہبان ہو۔آپ کے جذبات نے میرے دل پر ایک گہرا اثر چھوڑا اور میری بیوی نے بھی اسے شدت کے ساتھ محسوس کیا لیکن چونکہ والد صاحب محترم کی صحت ابھی کافی اچھی تھی۔اس لئے طبیعت ان الفاظ کو واقعی طور پر تسلیم کرنے سے انکار ہی کرتی رہی، اور دل اس سے گریزاں ہی رہا۔مگر آخر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔اتفاق کچھ ایسا ہوا کہ ادھر ہم انڈونیشیا پہنچے اور ادھر والد صاحب کی وفات حسرت آیات کی خبر موصول ہوئی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے اور قرب میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔مجھے اپنے والد صاحب محترم کی معیت اور صحبت میں کوئی بہت زیادہ عرصہ گزارنے کا موقع نہیں ملا تا ہم آپ کی نیک اور پاک زندگی کا جواثر میری طبیعت پر ہے میں اسے نہایت اختصار کے ساتھ اپنے ناقص الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔آپ کی ملازمت محکمہ نہر کی ملازمت تھی اور اس ملازمت کا ایک بہت لمبا عرصہ آپ نے سرگودھا کے