اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 162 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 162

162 تبلیغ کے دوران میں اس لئے چپ رہا تا کہ دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ جائے اور آپ کے خاص رنگ سے خدا ان کے سینوں کو کھول دے۔اس پر حکیم صاحب بے حد خوش ہوئے اور مولوی صاحب سے بغل گیر ہوکر رخصت ہوئے۔(۸) آپ کی تحریرات سے آپ کی ملازمت کے متعلق ذیل کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔۱۹۰۲ء پٹواری نہر مستقل ہوئے حلقہ چاوہ سیکشن بھیرہ وغیرہ ۱۹۰۵ء حلقه مانگووال منشی کے عہدے پر ترقی پاکرسوات (صوبہ سرحد ) نہر پر گئے۔۱۹۰۷ ء سرگودھا میں تبدیل ہوئے ۱۹۰۷ء حلقہ کوٹ مومن ۱۴ء تا ۱۶ محافظ دفتر کڑا نہ سب ڈویژن ہوئے اور سرگودھار ہے۔۲۰ تا ۳۰ ء نا ئب اہلمد ہوکر سرگودھار ہے۔۲۸ ء تا ۱۳۰ء ہلمد ہوکرسرگودھار ہے۔۳۳ء میں ہیڈ منشی رہے۔۲۹/۱۰/۳۵ کو ریٹائر ہوئے نشان الہی کا اظہار اس فن کتابت کے تعلق کی وجہ سے جب کہ ایک دفعہ مکرم مولوی صاحب جنڈیالہ گئے ان دنوں قاضی ظفر الدین صاحب پر و فیسر اور نیل کالج لاہور فوت ہو چکے تھے۔ان کے لڑکے فیض اللہ سے ان کی وفات کا افسوس کرنے گئے باتوں باتوں میں قاضی ظفر الدین صاحب کے لڑکے نے ذکر کیا کہ ان کی وفات سے ایک مضمون ہی ادھورہ رہ گیا جسے وہ لکھ رہے تھے۔اس سے توجہ پیدا ہوئی کہ دیکھیں وہ کیا مضمون تھا تو ان کے لڑکے نے بتایا کہ مرزا صاحب کی ایک کتاب کا جواب لکھ رہے تھے۔دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس چیلنج کا شکار ہوئے کہ من قام للجواب و تنمر۔فسوف يرى انه تندم و تذمر (9) چنانچہ اس کا علم پا کر مکرم والد صاحب نے اس امر کی اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دی اور اس طرح سے ایک نشان الہی کے ظاہر کرنے کا موجب ہوئے جو خفی ہو چلا تھا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۶۵ میں مختصر طور پر فرمایا * ☆ (☆) اس کا تفصیلی ذکر احباب اصحاب احمد جلد شم میں ملاحظہ فرمائیں (مؤلف)